بھارت

ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے بھارت شدیدعدم استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے :پرواین ساہنی

نئی دلی: معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے خبردار کیا ہے کہ مودی حکومت کی غیر سنجیدہ اور متضاد خارجہ پالیسی کی وجہ سے بھارت 2026میں شدیدعدم استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، جو ان کے بقول چین اور پاکستان کے خلاف دشمنی اور امریکی مفادات کی تابعداری پر مبنی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پراوین ساہنی نے امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی 2025اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حالیہ دورہ بھارت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا بھارت کے لیے کوئی سٹریٹجک کردار نہیں ہے، وہ اسے صرف ایک تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے اور انڈوپیسیفک خطے کی سیکورٹی میں اسکا کردار بہت معمولی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ نے جنوبی، مغربی اور وسطی ایشیا کو واحداہم یوریشین لینڈ ماس کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کو واضح سٹریٹجک کردار تفویض کیا ہے۔پرواین ساہنی نے مزید کہا کہ بھارت امریکہ کیلئے ایک "غلام قوم”کے طور پر کام کرنے کے باوجود، واشنگٹن کے طویل مدتی اسٹریٹجک منصوبوں میں اسے نظر انداز کر دیا گیا ہے جبکہ روس کی طرف سے برابری کی سطح پر شراکت داری کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا گیا کیونکہ بھارت نے چین کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے انکار کر دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی خارجہ پالیسی اب "ایک شخص کی طرح ہے جو دو کشتیوں(امریکہ اور روس) پر سوا رہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ امن اور چین کے ساتھ مستحکم تعلقات کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی۔تجزیہ کار نے روس کو زوال پذیر طاقت کے طور پر مسترد کرنے پر بھارتی پالیسی سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایااور خبردار کیا کہ حکومت کی غلط فہمیوں سے ملک میں عدم استحکام بڑھے گا کیونکہ جیو پولیٹیکل ماحول چین، روس اور پاکستان کے حق میں بدل رہا ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button