مقبوضہ جموں و کشمیر

دفعہ370کی منسوخی کے حوالے سے آن لائن سرچ پرمقبوضہ جموں وکشمیر میں چینی سیاح گرفتار

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز نے ایک چینی شہری کو پیشگی اجازت کے بغیر لداخ اور مقبوضہ علاقے کا سفر کرنے پر گرفتارکر لیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انسانی حقوق کے گروپوں کا کہناہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقے میں بھارت کی تنگ نظری کو ظاہر کرتی ہے۔ 29سالہ چینی سیاح ہو کونگٹائی 19نومبر کو بھارت میں بدھ مت کے ثقافتی ورثے کے بعض مقامات کا دورہ کرنے کے لئے سیاحتی ویزے پر نئی دہلی پہنچا تھا۔ وہ 20نومبر کو ایک پرواز کے ذریعے لہہ کے لیے روانہ ہوا اور پورے خطے کا سفر کیا۔بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ فوج کی طرف سے پکڑی گئی انٹرنیٹ چیٹنگ سے سیاح کی نقل و حرکت کی جانچ پڑتال شروع کردی گئی۔علاقے میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے یکم دسمبر کو سرینگر کا سفر کرنے سے پہلے تین دن تک زنسکار کا دورہ کیا، ایک گیسٹ ہائوس میں قیام کیا اور کئی ثقافتی اور مذہبی مقامات کا دورہ کیا جن میں ہارون ، شنکراچاریہ پہاڑی، حضرت بل، مغل باغات اور اونتی پور کے کھنڈرات شامل ہیں۔بھارتی ایجنسیوں نے بتایا کہ چینی سیاح کی فون ہسٹری میں مودی حکومت کی طرف سے اگست 2019میں دفعہ370کی یکطرفہ منسوخی سے متعلق سرچ دیکھی گئی ۔یہ معلومات عوامی پلیٹ فارمزپرآسانی سے دستیاب ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی حالات کو سمجھنے کے خواہشمند سیاحوں کے لیے اس طرح کی تلاشی معمول کی بات ہے۔سیاح نے کھلے بازار سے ایک بھارتی سم کارڈ بھی خریدا جو سیاحوں کے لئے ایک عام سی بات ہے،اس نے سرینگر میں آزادانہ طور پر سفر کیا۔ اس کے باوجود بھارتی ایجنسیوں نے اس کی نقل وحرکت کو مشتبہ قرار دیا ہے، اس کا فون قبضے میں لے کر اس سے طویل پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکام اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں تاکہ سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے بھارتی بیانیے کو تقویت ملے اورمقبوضہ جموں وکشمیر میںبھاری تعداد میں فوج کی تعیناتی کا جوازپیش کیا جا سکے۔ مقامی باشندے سوال کرتے ہیں کہ عوامی مقامات کا دورہ کرنے والے سیاح کے ساتھ دشمن جیسا سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات مقبوضہ علاقے میں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ نگرانی اوربے جا مداخلت کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بیرونی لوگوں کی معمول کی نقل و حرکت کو بھی فوجی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر آنے والے کو سیکورٹی کے لئے خطرہ قراردیکر بھارتی قبضے کوجائز قرار نہیںدیا جا سکتااور بنیادی مسئلہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ کشمیر کا سیاسی تنازعہ ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button