مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر :بھارتی سینٹرل ریزروپولیس فورس اہلکاروں نے کشمیری تاجر کو روایتی لباس فیرن کی تشہیر سے روک دیا

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے سرینگر میں ایک کشمیری تاجر کو امتیازی اور انتقامی سلوک کا نشانہ بناتے ہوئے روایتی لباس فیرن کا کاروبار کرنے اوراسے فروغ دینے سے روک دیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے سرینگرمیں کشمیری تاجر کو صدیوں پرانے روایتی لباس فیرن کی نمائش اور تشہیرسے روکاہے جو کشمیریوں کی ثقافتی شناخت کی علامت ہے۔ مقامی لوگوں نے اس واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس واقعے سے مقبوضہ علاقے میں معاشی سرگرمیوں اور ثقافتی اظہاراورمقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض فورسز کی بڑھتی ہوئی پابندیوں کی عکاسی ہوتی ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق بھارتی فورسز نے کشمیری تاجر کو بغیر کسی قانونی جواز کے ڈسپلے پر لگائے گئے روایتی لباس فیرن کو ہٹانے اور اپناکاروبار بند کرنے کاحکم دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے اس واقعے کو کشمیریوں کو معاشی طور پر پسماندہ رکھنے اور ان کی ثقافتی شناخت کو مٹانے کی بھارت کی منظم حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فیرن محض لباس نہیں بلکہ کشمیریوں کے ثقافتی ورثے اورمنفرد شناخت کی ایک علامت ہے اور اسے نشانہ بناناکشمیری ثقافت پر حملے کے متراد ف ہے ۔مبصرین کے مطابق بھارت لاکھوں کی تعداد میں قابض فوجیوں کو مقبوضہ کشمیرمیں تعینات کرنے کے بعد اپناسیاسی اورہندوتوا ایجنڈا مقبوضہ علاقے میں نافذ کررہا ہے اورکشمیریوںکی مقامی معیشت اور ثقافتی سرگرمیوں پر قدغن عائد کر رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے کشمیریوں کی معاشی پسماندگی، ثقافتی اور بنیادی حقوق پر قدغن کی عکاسی ہوتی ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button