بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی چارج شیٹ دائر کردی
یہ اقدام کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ،پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اورکوشش ہے، سیاسی مبصرین

جموں:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی چارج شیٹ دائر کی ہے، جس میں سات افراد اور ایک تنظیم کا نامزدکیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے نے 1597 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ جموں کی ایک خصوصی عدالت میں دائر کی ہے جسے ناقدین نے بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی اور پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔حکام نے دعوی کیا ہے کہ چارج شیٹ میں مبینہ سازش، ملزمان کے مبینہ کردار اور اس واقعے سے متعلق شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔بھارتی حکام کے مطابق اس حملے میں مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جس کا الزام انہوں نے سرحد پار کے عسکریت پسندوں پرعائد کیا گیاہے۔ تاہم مبصرین نے بھارتی حکام کی طرف سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی تحقیقات کی ساکھ اور شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے متعلق واقعات کی ایک طویل تاریخ کا حوالہ دیا ہے۔چارج شیٹ میں بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال جولائی میں سرینگر کے علاقے داچھی گام میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد (نام نہاد ہینڈلر)اس واقعے میںملوث تھے تاہم اس دعوی کی آزادانہ طورپرتصدیق نہیں کی گئی ہے۔مبینہ طورپر حملہ آوروں کو پناہ دینے کے الزام میں رواں سال جون میں گرفتار کیے گئے دو کشمیری شہریوں کے خلاف بھی چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ چارج شیٹ جموںو کشمیر پر بھارت کے دیرینہ بیانیہ کو تقویت دینے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے اور مقبوضہ علاقے پر اپنے غیر قانونی تسلط کو طول دینے کی ایک کوشش ہے ۔ آزادانہ اورشفاف تحقیقات کے بغیر بھارتی ایجنسیوں کے مضحکہ خیز دعوے قابل قبول نہیں ہیں





