APHC-AJK

سقوطِ ڈھاکہ بھارتی سازشوں، مداخلت اور جارحانہ پالیسیوں کا منطقی نتیجہ تھا ،غلام محمد صفی

اسلام آباد : کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کسی اچانک واقعے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ برسوں پر محیط بھارتی سازشوں، منظم سیاسی و عسکری مداخلت اور جارحانہ حکمت عملی کا منطقی انجام تھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق غلام محمد صفی نے اسلام آباد میںجاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت نے مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسند عناصر کو منظم کیا، مکتی باہنی جیسے گوریلا گروہوں کو تربیت، فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کیا اور خفیہ ایجنسی RAWکے قیام کے فورا بعد مشرقی پاکستان کو اس کا پہلا بڑا ہدف بنایا۔انہوں نے کہا کہ تاریخی شواہد سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ بھارتی فوجی مکتی باہنی کے بھیس میں سرحد پار بھیجے گئے، عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے منظم پروپیگنڈا مہم چلائی گئی اور بالآخر بنگلہ دیش میں براہِ راست فوجی یلغار کی گئی، جس کے نتیجے میں 16دسمبر 1971کو پاکستان کودولخت کر دیا گیا۔ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھا بلکہ خطے کے امن و استحکام پر بھی کاری ضرب ثابت ہوا۔غلام محمد صفی نے کہا کہ خود بھارت کے موجودہ وزیراعظم سمیت متعدد بھارتی رہنمائوں کے اعترافات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی حکومت، اس کے اداروں اور بھارتی جنتا پارٹی و شیوسینا سے وابستہ عناصر نے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر پاکستانی افواج کے خلاف جنگ لڑی اور بنگلہ دیش کے قیام میں فعال کردار ادا کیا۔ یہ اعترافات بھارتی ریاستی پالیسی کے تسلسل اور پاکستان مخالف ایجنڈے کو بے نقاب کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سقوطِ ڈھاکہ سے لے کر آج تک بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا، علاقائی طاقت بننے سے روکنا اور جنوبی ایشیا میں اپنی اجارہ داری قائم کرنا رہا ہے۔چاہے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ہو، عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا ہو، یا دہشت گرد عناصر کے ذریعے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت بھارت کی حکمتِ عملی کا واحد مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور نقصان پہنچاناہے۔ حریت کنوینر نے کہا کہ 16دسمبر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دشمن آج بھی وہی ہے اور اس کی سوچ میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی؛ تاہم فرق یہ ہے کہ پاکستان آج زیادہ مضبوط، باشعور اور زیادہ متحد ہے۔پاکستان نے اپنی دفاعی تیاریوں کوموثر بنایا ہے اور روایتی جنگی صلاحیت میں بھی اپنی برتری ثابت کی ہے ۔ سقوطِ ڈھاکہ نے ہمیں اتحاد کی اہمیت کا سبق دیتی ہے ، جبکہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہدا نے ہمیں استقامت اور ثابت قدمی کا درس دیا۔غلام محمد صفی نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے کہ قوم داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس حقیقت کو سمجھے کہ دشمن کی سازشیں آج بھی جاری ہیں، اور خطے میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھارت کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیاں ہیں۔انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ اللہ تعالی کی نصرت سے آج پاکستان اور بنگلہ دیش ایک نئے فہم، احترام اور اعتماد کے ساتھ ایک پیج پر آ رہے ہیں، اور ان شا اللہ آنے والے وقت میں دونوں ممالک باہمی تعاون اور شراکت داری کو مزید مضبوط کریں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تحریکِ پاکستان کا آغاز 1906میں ڈھاکہ سے ہوا تھا، اور آج ایک مرتبہ پھر ڈھاکہ کی فضا میں پاکستان زندہ باد کے نعروں اور پاکستانی پرچموں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان شاخ نے 16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور میں ہونے والے سفاکانہ دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے معصوم طلبا، اساتذہ اور اسکول اسٹاف کوخراج عقیدت پیش کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button