جموں وکشمیر میں حقیقی اختیارات منتخب حکومت کے بجائے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں، سینئر بھارتی وکیل
ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر بلا جواز ہے، اشوک بھان
نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ کے معروف سینئر وکیل اشوک بھان نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حقیقی اختیارات اب بھی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے، جو جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے اور منتخب نمائندوں کے کردار کو محدود کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھان نے لائرز گلڈ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیرکے ریاستی درجے کی بحالی میں مسلسل تاخیر بلاجواز ہے ۔ بھارتی حکومت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اور سپریم کورٹ کے سامنے بار بار دی گئی اس یقین دہانی کا احترام کرنے میں ناکام رہی ہے کہ جموں وکشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا اور یونین ٹیریٹری کی حیثیت عارضی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طویل تاخیر سنگین سیاسی، آئینی اور اخلاقی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ ریاست کا درجہ ملتوی کرنا سیاسی اعتماد کو کمزور کرتا ہے، شہریوں کو خاص طور پر نوجوانوں سے الگ کر دیتا ہے۔ بھان نے کہا کہ مزید تاخیر کا کوئی سیکورٹی یا انتظامی جواز نہیں ہے۔








