نئی دلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ پر پولیس کارروائی کی چھٹی برسی، طلباءکا احتجاجی مظاہرہ
نئی دہلی: بھارت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباءکیخلاف2019میں کی جانے والی بہیمانہ پولیس کارروائی کی چھٹی برسی کے موقع پر مختلف طلباءتنظیموں سے وابستہ سینکڑوں طلباءنے کیمپس میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق احتجاجی طلباءنے پولیس کارروائی کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور زیر حراست طلباءکی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے15دسمبر 2019کو شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والے طلباءپر دلی پولیس اور پیرا ملٹری اہلکاروں کی طرف سے کیے جانے والے کریک ڈاﺅن کی مذمت کی جس میں کئی طالبات سمیت درجنوں طلباءزخمی ہوئے تھے ۔ پولیس اور پیر املٹری اہلکاروں نے کیمپس میں واقع ذاکر حسین لائبریری کے اندر گھس کر طلباءکو بری طرح زد وکوب کیا تھا جس کے مناظر آج بھی ذہنوں میں تازہ ہیں۔ مظاہرے کے مقررین نے مطالبہ کیا کہ ان طلباءکو فوری رہا کیا جائے جو آج بھی جیلوں میں انصاف کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ان طلباءکو مالی معاوضہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا جن کی تعلیم ، کیرئیر اور زندگی اس واقعے سے بری طرح متاثر ہوئی ۔ اس موقع پر فرانٹرنٹی موومنٹ جامعہ کے جنرل سیکرٹری نوشین فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اختلاف رائے کی آواز دبانے کیلئے پولیس کا بے جا استعمال کیا جس سے طلباءکو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صدمہ بھی پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم بصارت سے بھی محروم ہو گیا ہے مگر آج تک متاثرین کو انصاف نہیں ملا







