کشمیری نظربندوں کے ساتھ بھارتی عدالتوں کے متعصبانہ اور امتیازی سلوک کی شدید مذمت

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا اپنے نظر بند چیئرمین شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت کو ملتوی کئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کیس کو طول دینے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بار بار التوا ایک پرانا ہتھکنڈاہے جس کا مقصد کشمیری رہنمائوں کو بروقت عدالتی ریلیف کے بغیر سلاخوں کے پیچھے رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تاخیر کشمیری سیاسی قیدیوں کے مقدمات میں بھارتی عدالتوں کے متعصبانہ اور امتیازی رویے کی عکاسی کرتی ہے جن میں انہیں قانون تک رسائی کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ہے۔ترجمان نے کہاکہ بغیر کسی فیصلے کے طویل نظربندی کشمیری رہنمائوں کو ان کے سیاسی نظریے کی سزا دینے کی ایک منظم کوشش ہے تاکہ انہیں بنیادی قانونی حقوق سے محروم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی عدالتیں غیرجانبداری سے انصاف فراہم کرنے کے بجائے اکثر سرکاری بیانیے کی سہولت کار بن جاتی ہیں اور قانونی عمل کو سیاسی جبر کے آلات میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مجموعی صورتحال بدستور ابتر ہوتی جا رہی ہے، ہزاروں سیاسی کارکن اور نوجوان کالے قوانین کے تحت دور دراز کی جیلوں میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظربند کشمیریوں کو غیر انسانی حالات، طبی سہولیات سے محرومی اور طویل قید تنہائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ ان کے عزم کو توڑنے کے لیے انہیں جان بوجھ کر گھروں سے دور رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مشکلات صرف قیدیوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ خصوصا بزرگ والدین، خواتین اور بچے محدود رسائی، مہنگے سفر اور اپنے پیاروں کی خیریت کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی کی وجہ سے شدید جذباتی، مالی اور نفسیاتی مسائل برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ڈی ایف پی کے ترجمان نے اقوام متحدہ اور عالمی سول سوسائٹی سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سنجیدہ نوٹس لیں اور اپنا اخلاقی اور سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے بھارت پردبائو ڈالیں کہ وہ خطے میں من مانی نظر بندیاں ختم کرے، کشمیری سیاسی قیدیوں کے منصفانہ اور بروقت ٹرائل کو یقینی بنائے اور جموں و کشمیر میں بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ انسانی حقوق اور قانون کی پاسداری کرے۔








