مقبوضہ جموں و کشمیر

سونم وانگچک نے مظاہرین کو تشدد پر اکسایا نہیں بلکہ روکاتھا، اہلیہ گیتانجلی کا سپریم کورٹ میں بیان

نئی دلی:جیل میں قید ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے آنگمو نے بھارتی سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ انکے شوہر کی تقریر کا مقصد لوگوں کو تشدد پر اکسانا نہیں بلکہ انہیں روکنا تھا ۔ انہیں مجرم کے طور پر پیش کرنے کے لیے حقائق مسخ کئے جارہے ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گیتانجلی جے انگمو نے بھارتی سپریم کورٹ کو بتایا کہ سونم وانگچک کو ان کی نظربندی کے خلاف متعلقہ اتھارٹی کے سامنے نمائندگی کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیاہے اور نہ ہی ان کی نظربندی سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں ۔ سونم وانگچک کو بھارتی پولیس نے گزشتہ سال 26ستمبرکو مقبوضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ کے علاقے لہہ میں ان کی رہائش گاہ سے قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا۔ انہیںلداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کی بحالی کے مطالبے کے حق میں احتجاج کے دو دن بعدگرفتار کیاگیاتھا جس میں 4 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے تھے۔سونم وانگچک کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے جسٹس اروند کمار اور پرسنا بی ورلے پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ کو بتایا کہ انکے موکل کو انتظامیہ نے متعصبانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکنے کے لیے حراست میں لیا تھا۔سپریم کورٹ میں سونم وانگچک کی مظاہرین سے تقریر کی ویڈیو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ ماحولیاتی کارکن نے یہ تقریب اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے بعد کی تھی ،جس میں انہوں نے لوگوں کو تشدد روکنے کی اپیل کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کو ایک مجرم ظاہر کرنے کے لیے حقائق سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ سونم وانگچک کو قومی سلامتی قانون کے تحت حراست میں رکھنے کی بنیاد 28دن کی تاخیر سے فراہم کی گئی، جو کہ آئین کی دفعہ 22 کی واضح خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی شخص کی گرفتاری کی مکمل وجوہات جاننا اس کے اہلخانہ کا بنیادی حق ہے، جسے نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ 29ستمبر کو سونم وانگچک کو جو حراستی حکم دیا گیا، وہ نامکمل بنیادوں پر مبنی تھا اور اس کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے سے متعلق چار اہم ویڈیوز ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں، جس سے ملزم کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 12جنوری تک ملتوی کر دی ہے ۔
ادھر سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے بھارت کی صدر دروپدی مرمو کو ایک خط میںاپنے شوہر کی رہائی کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بطور قبائلی وہ لداخ کے لوگوں کے جذبات اور درد کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button