بھارت

مودی سرکار: نفرت کا بازار۔مودی ہے تو ممکن ہے

بھارت میں نفرت انگیز واقعات میں اضافے پر کانگریس کی مودی حکومت پر کڑی تنقید

نئی دلی:بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13فیصد اضافے پر مودی کی بھارتی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق امریکی ریسرچ گروپ انڈیا ہیٹ لیب نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں گزشتہ سال اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف ایک ہزار 318نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔ کانگریس نے غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹر کی ایک سرخی کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پلیٹ فرام ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”بھارت میں مودی سرکار: نفرت کا بازار’ ‘۔ اس پوسٹ میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کانگریس نے کہاہے کہ ”مودی ہے تو ممکن ہے”۔پوسٹ میں نفرت کے دن (اچھے دن کا برعکس)سلوگن بھی لگایا گیاہے۔


واضح رہے کہ انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق 2025کے دوران بھارت بھر میں مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت اقلیتیوں کے خلاف نفرت پر مبنی واقعات میں 13فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ منگل کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کے 1318واقعات رپورٹ کئے گئے ، جو کہ 2024میں 1165اور 2023میں صرف668تھے۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات مودی کی ہندوتوا جماعت بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہوئے ۔ ہیٹ اسپیچ کے واقعات سیاسی ریلیوں، مذہبی جلوس اور ثقافتی تقاریب کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہروں میں بھی سامنے آئے۔
یاد رہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2014میں بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور نفرت انگیز واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ ہیٹ اسپیچ دراصل کسی شہری یا گروپ کے خلاف مذہب، قومیت، نسل یا جنس کی بنیاد پر تعصب والی زبان کا استعمال کرنا ہے

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button