مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر، مودی حکومت نام نہاد ترقی کے نام پر کشمیری باغبانی تباہ کر رہی ہے: کاشتکار

سیب کے کاشتکاروں نے متنازعہ ریلوے منصوبے کے خلاف ایک بار پھر آواز بلند کر دی

سری نگر:غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے نام نہاد ترقی کے نام پر کشمیریوں کے معاشی مفادات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں سیب کے کاشتکاروں نے متنازعہ ریلوے منصوبے کے خلاف ایک بار پھر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے اپنی روزی روٹی پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق منصوبے کے لیے سروے کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور بھارتی انتظامیہ نے مقامی آبادی سے مشاورت کے بغیر مختلف دیہات میں نشانات اور ستون نصب کر دیے ہیں۔ اس اقدام پر کاشتکاروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ نئی دہلی کی جانب سے کشمیریوں کے معاشی اور ماحولیاتی مسائل سے لاتعلقی کا عکاس ہے۔
ضلع ترقیاتی کونسل شوپیان کے رکن راجہ عبد الواحد نے کہا کہ مجوزہ ریلوے لائن کی ترتیب سے خطے کے باغبانی شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہااگر یہ منصوبہ نافذ کیا گیا تو پانچ لاکھ سے زائد سیب کے درخت تباہ ہو جائیں گے۔ یہ ریلوے لائن متعدد دیہات سے گزرے گی اور یہاں تک کہ محفوظ چنار کے درختوں کو بھی خطرے میں ڈال دے گی جو کشمیر کے قدرتی اور ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کشمیریوں کی فلاح و بہبود پر تباہ کن انفراسٹرکچر منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ پلوامہ سے تعلق رکھنے والے سیب کے کاشتکار غلام احمد وانی نے کہا کہ باغات ہزاروں خاندانوں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے کہایہی ہمارا واحد ذریعہ آمدن ہے۔ باغات کی تباہی کا مطلب پورے خاندانوں کو معاشی بدحالی کی طرف دھکیلنا ہے۔مودی سرکار کے اس مجوزہ ریلوے منصوبے پر سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ شوپیان سے رکن اسمبلی شبیر احمد کلی نے اسے ”خطے کی باغبانی کے لیے ایک آفت” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ کشمیر کی سیب پر مبنی معیشت کو مفلوج کر دے گا جس سے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر لاکھوں افراد وابستہ ہیں۔دریں اثنا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی خاموشی پر تنقید کی اور کہا کہ یہ طرزِ عمل انتظامیہ کی جانب سے کشمیریوں اور ان کے روزگار سے جڑے حقیقی مسائل کے تئیں مسلسل بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں اضلاع کے کاشتکاروں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی فوری معطلی اور متاثرہ آبادی سے بامعنی مشاورت تک احتجاج کو جاری رکھیں گے ۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ زبردستی مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button