مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر، بھارتی انتظامیہ کی غفلت، کشمیر میں پانی کا بحران سنگین

سری نگر:غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے پانی کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ دینے کی بجائے منصوبوں کو ترجیح دی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع پلوامہ میں واقع تاریخی چشمے جن میں اری پل، ناگ بل اور بلبل ناگ شامل ہیں خشک ہو چکے ہیں۔ چشموں کے خشک ہونے کے نتیجے میں پانی کی فراہمی کے متعدد منصوبے متاثر ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔
سماجی کارکن غلام نبی نے کہا کہ ”برسوں کی غفلت اور ناقص انتظام نے ہمیں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے سامنے بے بس بنا دیا ہے۔” مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی انتظامیہ عوام کو ترجیح دینے کے بجائے منصوبوں کو فوقیت دے رہے ہیں جس کے باعث شہری بے قاعدہ ٹینکر سروسز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ دریائے جہلم اور رنبی ارہ نالہ کے اطراف صورتحال مزید تشویشناک ہے جہاں پانی کی فراہمی کے درجنوں منصوبے متاثر ہو چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اقدامات نہ کیے تو صورتحال ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ایک مقامی رہنما نے کہا، ”حکومتی بے حسی کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکام اپنی ذمہ داری قبول کریں اور پائیدار و مؤثر حل نافذ کریں۔”

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button