مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ

سری نگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں خواتین کے خلاف ظلم و ستم اور جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں انسانی اسمگلنگ، جنسی زیادتی اور ہراسانی عام مسائل بن چکے ہیں۔ ہر سال ہزاروں خواتین کو جبرا فروخت کیا جاتا ہے جس سے خواتین کی حفاظت، وقار اور بنیادی حقوق شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی حالات زار کے بارے میں کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اب خواتین کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں انہیں مسلسل حراست، ہراسانی، جنسی زیادتی اور تشدد کا سامنا ہے۔ انسانی اسمگلنگ گہرائی تک جڑ پکڑ چکی ہے اور سب سے زیادہ متاثر خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین پر اثرات خاص طور پر سنگین ہیں، کیونکہ علاقے کی متنازعہ حیثیت اور طویل تنازعہ، عسکریت پسندی، ظالمانہ قوانین اور بھارتی فوج کی بھاری موجودگی ان کی روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ بھارتی فوج کی جانب سے بار بار گھیرائو اور تلاشی کی کارروائیاں، گھروں پر چھاپے، مردوں کی جبری گمشدگی اور پابندی والے اقدامات خواتین کی حفاظت، نقل و حرکت اور وقار پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔کشمیری خواتین اکثر تشدد کے بنیادی ہدف بنتی ہیں۔ ایمنیسی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں میں ریپ، بے دخلی اور خاندان کے افراد کے علیحدہ ہونے کے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے ۔رواں ماہ جنوری میں این آئی اے کی ایک عدالت نے کشمیری خواتین رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو مجرم قرار دیاہے، جو دہلی کی تہار جیل میں تقریباً آٹھ سال غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس سے وابستہ درجنوں خواتین اب بھی پی ایس اے اور یواے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت مسلسل نظربند ہیں اورمتعدد سنگین طبی مسائل کے باوجود علاج معالجے کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں ۔مرد اہل خانہ کی گرفتاری اور گمشدگی نے کئی خواتین کو گھر کی سربراہ بننے پر مجبور کر دیاہے، جس سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں خواتین کو ڈرانے ، دھمکانے اور جنسی ہراسانی کے واقعات بھی جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2023 میں 4لاکھ 48ہزار211 سے زائد مقدمات درج ہوئے، جن میں خواتین پررشتہ داروں کے ذریعہ ظلم، اغوا، حملہ اور ریپ شامل ہیں۔ دہلی، ہریانہ، تلنگانہ اور راجستھان میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے، جہاں روزانہ 12سو سے زائد خواتین تشدد کا شکار ہو تی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں خواتین کے حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال ایک سنگین سماجی اور بین الاقوامی مسئلہ ہے اور عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔







