مقبوضہ کشمیر، جنوری تحریک آزادی کشمیر میں قتل عام کےمہیے کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، غلام محمد صفی

اسلام آباد،: کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد کشمیر و پاکستان شاخ) کے کنوینئر غلام محمد صفی نے اپنے بیان میں جنوری کو ”قتل عام کا مہینہ” قرار دیتے ہوئے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں سوپور، سرینگر، ہندواڑہ اور کپواڑہ میں شہید ہونے والے بیگناہ شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، غلام محمد صفی نے کہا کہ جن شہداء نے بھارتی فوج کے ریاستی جبر اور فوجی قبضے کے خلاف اپنا مقدس لہو پیش کیا وہ ہمارے ماتھے کا جھومر اور کشمیر کی حریت کی روشن علامت ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا ۔
کنوینئر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنا پیدائشی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر نہتے کشمیری عوام جنوری کے مہینے میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں سوپور، سرینگر، ہندواڑہ اور کپواڑہ میں اندھا دھند فائرنگ، آتش زنی اور بارودی کارروائیوں کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں کشمیری شہید اور زخمی ہوئے۔ اس دوران گھروں، بازاروں اور عمارات کو آگ لگا کر تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث اب تک کسی فوجی افسر یا اہلکار کو ان سنگین جنگی جرائم کا جوابدہ نہیں بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین بھارتی فوج کو کھلی چھوٹ اور ریاستی استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، جعلی مقابلے، تشدد، انحرافِ انصاف اور اجتماعی سزائیں جیسے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جو عالمی قانون کے مطابق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔غلام محمد صفی نے واضح کیا کہ بھارتی فوج کی تمام تر سفاکیت اور جارحیت کے باوجود کشمیری عوام نے گزشتہ سات دہائیوں میں اپنے حقِ خودارادیت اور شناخت سے کبھی دستبرداری اختیار نہیں کی اور نہ مستقبل میں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد ایک تاریخی، سیاسی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جدوجہدِ آزادی ہے، جسے اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں کے ذریعے تسلیم کیا ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی (OIC)، یورپی یونین، برطانوی پارلیمنٹ، انسانی حقوق کمیشنز اور عالمی سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکے اور کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی اور اسٹرٹیجک چشم پوشی نہ صرف بھارتی فورسز کو مزید طاقت دیتی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔غلام محمد صفی نے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد اب فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس جدوجہد کا مرکز و محور ہمیشہ کشمیری عوام رہیں گے۔








