مشعال ملک کادلی ہائی کورٹ میں یاسین ملک کیخلاف جھوٹے مقدمے کی سماعت پر اظہارتشویش
مظفرآباد: نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ کل نئی دلی ہائی کورٹ میں یاسین ملک کے خلاف جھوٹے مقدمے کی سماعت نہایت حساس اور خطرناک نوعیت کی ہے، جس میں بھارت کی جانبدار عدلیہ یاسین ملک کی سزا سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سناسکتی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مشعال ملک نے مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک ایک سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے مذاکرات اور سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایاہے۔ اس کے باوجود انہیں بھارت کی جانب سے سنگین بے بنیاد الزامات اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یاسین ملک طویل عرصے سے تہاڑ جیل میں قید ہیں اورانہیں اپنے دفاع کے لیے قانونی مدد اور شفاف عدالتی کارروائی کے حق سے بھی محروم رکھا جا رہاہے۔ مشعال ملک نے کہاکہ یاسین ملک کو عدالت میں پیش کیے بغیر یکطرفہ فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر یاسین ملک کی زندگی کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس کی ذمہ داری مکمل طور پر بھارتی ریاست پر عائد ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یاسین ملک کی ممکنہ سزائے موت دراصل کشمیری عوام کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور یاسین ملک کی زندگی بچانے کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کے مستقبل کا مقدمہ ہے۔




