کالعدم بی ایل اے کی مذموم کارروائیوں کی تشہیر بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے
اسلام آباد:
بھارت کی جانب سے کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)کے نام نہاد آپریشن ہیروف 2.0 کی تشہیر اور تعریف بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماہرین اورمبصرین نے کہاہے کہ بھارتی میڈیا اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو ایک ناکام اور دہشت گردی سے متاثرہ ریاست کے طور پر پیش کرنے کے علاوہ ایک مسلح دہشتگرد گروہ کو جائز قراردینے کی کوشش کر رہا ہے۔31جنوری اور یکم فروری 2026کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بی ایل اے کے حملوں کو بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کے اکائونٹس کے ذریعے کامیاب مزاحمتی کارروائی کے طور پر پیش کیاگیا۔ ان پلیٹ فارمز پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی شہادتوں اور یرغمالیوں سے متعلق مبالغہ آمیز اور غیر مصدقہ دعوے کئے گئے ۔قانونی ماہرین کے مطابق بھارت کی طرف سے ایک دہشتگرد گروپ کی تعریف اور اسکی مذموم کارروائیوں کی تشہیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کی کھلی خلاف ورزی ہے جو تمام ریاستوں کو دہشت گردی کی کسی بھی شکل میں حمایت، معاونت یا اشتعال انگیزی سے روکتی ہے۔ بھارتی میڈیا نے بی ایل اے کے بیانیے کوپھیلانے ، اسکی دہشت گردی کی کارروائیوں کو آزادی کی جدوجہد کے طور پر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی جو کہ عملی طورپر ایک دہشتگرد گروہ کی معاونت کے متراد ف ہے ،جو پاکستان میں شہری اور سکیورٹی اہداف پر حملوں میں ملوث ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں صرف ملک میں اقلیتوں پر مظالم تک محدود نہیں، بلکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے، جو ریاستی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کی رپورٹوں میں بھی بھارت کے دوغلے معیار کو بے نقاب کیاگیاہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی 2024کی انسانی حقوق رپورٹ کے مطابق بھارت میں پولیس مقابلوں کے دوران 85افرادکو قتل کیاگیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2024کے پہلے نو ماہ میں 121افراد پولیس حراست میں، ایک ہزار558عدالتی حراست میں جبکہ 93افراد کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بھارت م یں 2019سے 2024کے دوران دوہزار840 سے زائد املاک کوغیر قانونی طور پر مسمار کیاگیا ،جن میں بیشتر مسلمانوں کی املاک تھیں۔اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی بھارت میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال پر کڑی تنقید کی ہے، جس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی ہلاکتیں اور تشدد ہوا اور 2025کے ایک حملے کے بعددوہزار800افراد کو گرفتار کیاگیا۔بھارت کی منافقت اس بات میں بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ مسلسل بی ایل اے کی حمایت کر کے اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج خودمختاری کے اصول کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق بلوچستان میں 177بھارت نواز دہشت گرد مارے گئے ہیں۔پاکستان نے شواہد فراہم کیے ہیں کہ بھارت نے بی ایل اے کے ذریعے شہریوں، جیلوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ یہ شواہد بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے باغیوں کی مالی اور عملی مدد کے تاریخی دعوئوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کی جانب سے 2025میں جعفر ایکسپریس سمیت درجنوں حملے بھارت کی پراکسی دہشت گردی کی واضح مثالیں ہیں۔ ان اقدامات کو عالمی انسداد دہشت گردی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بھارت کے خلاف فوری بین الاقوامی کارروائی کی جائے اوراس پر پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ خطے میں عدم استحکام کا سلسلہ روکا جا سکے۔





