امریکہ۔بھارت تجارتی معاہدہ بھارت کی اسٹریٹجک مجبوری اور امریکہ کی تجارتی کامیابی ہے :مسعود خان

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ کسی اسٹریٹجک چوائس کے بجائے نئی دہلی کی اسٹریٹجک مجبوری ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسعود خان نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہاکہ مئی 2025 کی پاک–بھارت کشیدگی کے بعد بھارت کو سفارتی اور اسٹریٹجک سطح پر شدید دباو¿ کا سامنا رہا جس کے باعث وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس فیصلہ سازی کے محدود آپشنز رہ گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تنازعے کے بعد بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو گیا تھا، جس سے اس کا سفارتی اثر و رسوخ بھی نمایاں طور پر محدود ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تصادم کے بعد پاکستان اور بھارت ایک اسٹریٹجک جمود کی کیفیت میں پہنچ چکے تھے،جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت اور اس کی قیادت پر کھلی تنقید نے وزیر اعظم مودی پر واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے اضافی دباو¿ ڈالا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران پاکستان نے چین کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط کیے، روس کے ساتھ تعلقات میں وسعت پیدا کی اوریورپی ےونین کے ساتھ طویل عرصے سے زیر التوا آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے سخت سفارتی دباو¿ کے نتیجے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ تیزی سے طے پایا جو بڑی حد تک امریکی معاشی مفادات کے حق میں ہے۔سردار مسعود خان کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکہ نے بھارتی اشیا ءاور خدمات پر ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے، جبکہ بھارت نے امریکی اشیا ءاور خدمات پر تمام ٹیرف ختم کر دیے ہیں، جس سے امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے بھارتی منڈی تقریباً مکمل طور پر کھل گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے ٹیکنالوجی، زراعت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں امریکہ میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی وعدہ کیا ہے، جو واشنگٹن کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک اور معاشی کامیابی ہے۔سابق سفیر نے نشاندہی کی کہ اس معاہدے کے ذریعے بھارت نے بالخصوص زرعی شعبے میں اپنی دیرینہ سرخ لکیریں عبور کی ہیں، جہاں درآمدی تحفظ کو ہمیشہ سیاسی اور معاشی طور پر نہایت حساس سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ رعایتیں وزیر اعظم مودی کے لیے داخلی سطح پر سنگین چیلنجز پیدا کریں گی، کیونکہ بھارتی کسانوں کو قائل کرنا آسان نہیں ہوگا کہ یہ اقدامات ان کے روزگار اور مفادات کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے تناظر میں یہ معاہدہ بھارتی معیشت کے کمزور شعبوں کو شدید عالمی مسابقت کے سامنے لا کھڑا کرے گا، جس کے اثرات غیر متناسب طور پر غریب اور پسماندہ طبقات پر پڑنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں مغربی ممالک سے اشیائے تعیش، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی مصنوعات کم قیمت پر بھارتی منڈی میں داخل ہوں گی، جبکہ مقامی صنعت دباو¿ کا شکار ہو سکتی ہے۔معاہدے کے اسٹریٹجک پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکہ نے بھارت سے روسی تیل پر انحصار بتدریج کم کرنے اور توانائی کی درآمدات کو امریکی اور دیگر متبادل ذرائع کی جانب منتقل کرنے کے وعدے بھی حاصل کیے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت اس سے قبل متعدد اعلانات کے باوجود روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا رہا ہے اور نیا معاہدہ بھارت کی خارجہ پالیسی ترجیحات میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ بھارت کا اسٹریٹجک خودمختاری کا بیانیہ اب خود بھارت کے اندر تنقید کی زد میں ہے، جہاں ناقدین کے مطابق حالیہ فیصلوں نے ملک کو اسٹریٹجک غیر یقینی اور معاشی کمزوری کی جانب دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران اختیار کیے گئے جارحانہ رویے نے بھارت کی عالمی ساکھ کو متاثر کیا اور اس کی عسکری صلاحیتوں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق بھی واضح ہو کر سامنے آ گیا۔خطے پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور بھارت کے بڑھتے ہوئے روابط کے تناظر میں محتاط اور چوکنا رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران واشنگٹن میں قابلِ ذکر سفارتی پیش رفت کی ہے اور امریکی پالیسی سازوں کے ساتھ روابط کو مستحکم کیا ہے، بالخصوص صدر ٹرمپ اور فیصلہ ساز حلقوں کے ساتھ اعتماد کی فضا میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت امریکی سیاسی اور پالیسی اداروں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ممکن ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے نئے تعلقات کو پاکستان پر سفارتی دباو¿ بڑھانے کے لیے استعمال کرے۔ سردار مسعود خان نے زور دیا کہ پاکستان کو فعال سفارت کاری، جامع معاشی اصلاحات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کے ذریعے اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔سابق سفیر کے مطابق اگرچہ امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ نئی دہلی کے لیے ایک عارضی سفارتی بحالی کی علامت ہو سکتا ہے، تاہم یہ جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صف بندیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس کے تناظر میں پاکستان کو مستعد، لچکدار اور سفارتی طور پر متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔





