بھارت

بی جے پی حکومت نے مذہبی اقلیتوں کیخلاف تشدد ، امتیازی سلوک معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ

نئی دہلی: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم” ہیومن رائٹس واچ“ نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر اور بھارت بھر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کیا ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں، پسماندہ برادریوں اور حکومتی ناقدین کے خلاف تشدد، امتیازی سلوک اور جبر معمول بنا لیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی عالمی رپورٹ 2026 میں نشاندہی کی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد حکام نے آپریشن سندور کے تناظر میں کچھ میڈیا اداروں اور تبصرہ نگاروں کو بلاک کر کے اختلاف رائے کو دبایا اور سوشل میڈیا پوسٹوں کی پاداش میں لوگوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کیے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے واقعات اور مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔حکام مسلمانوں کے گھروں اور املاک کی غیر قانونی مسماری کرتے رہے۔ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے کہا کہ بھارتی حکومت نے امتیازی پالیسیوں، نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے مذہبی اقلیتوں، پسماندہ گروہوں اور ناقدین کے خلاف تشدد کو معمول بنایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام نے موبائل انٹرنیٹ سروسز کو بھی بند کر دیا اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہر تعلیم اور موسمیاتی کارکن سونم وانگچک کو گرفتار کر لیا ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متعدد کارکناں اور طلبا انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت بغیر کسی الزام کے جیلوں میں بند ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے انسداد دہشت گردی قوانین، غیر ملکی فنڈنگ کے قوانین کا استعمال کارکنوں، سول سوسائٹی کے گروپوں اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے مذہبی اقلیتوں کی تذلیل کی ہے اور 2025 میں سینکڑوں بنگالی بولنے والے مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کو "غیر قانونی تارکین وطن” کا نام دے کر ملک بدر کیا ہے۔ حکام نے مسلمانوں کے گھروں اور املاک کو غیر قانونی طور پر مسمار کیا۔ہیومن رائٹس واچ میں ایشیا کی ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے کہابھارتی حکومت نے امتیازی پالیسیوں، نفرت انگیز تقریروں اور سیاسی طور پر محرکات کے ذریعے مذہبی اقلیتوں، پسماندہ گروہوں اور ناقدین کے خلاف تشدد کو معمول بنایا ہے، اس طرح کے طرز عمل نے انسانی حقوق پر بھارت کے عالمی موقف کو بری طرح مجروح کیا ہے۔رپورٹ میں ہندوتوا گروپوں سے منسلک نفرت انگیز تقاریر میں اضافے اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ امتیازی پالیسیاں ختم کریں، نفرت انگیز تقاریر کے استعمال اور مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں بند کریں، اور کارکنوں، ناقدین اور پرامن مظاہرین کے خلاف تمام من گھڑت الزامات فوری طور پر واپس لیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button