پاکستان

پاکستان حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا، صدر مملکت

وہ دن دور نہیں جو کشمیر ی بھارتی غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالیں گے، وزیر اعظم

سلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنا حقِ خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے بہادر کشمیری عوام غیرقانونی بھارتی قبضے کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کے عزم، حوصلے اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد بھارت انتظامی اور قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کیلئے کوششیں تیز کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر قدغنیں، کشمیری قیادت کی گرفتاریاں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں کشمیری عوام کو ا±نہی کی سرزمین میں کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی رپورٹس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے حراستی اقدامات اور اجتماعی سزاو¿ں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی طرف سے گھروں کی مسماری اور ڈیجیٹل آزادیوں پر پابندیوں کے باعث ہزاروں سوشل میڈیا اکاو¿نٹ کی بندش زمینی حقائق چھپانے کی کوششیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور مسجد انتظامیہ کی حالیہ پروفائلنگ دانستہ دباو¿ کی کارروائیاں ہیں جن کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کے مذہبی حقوق میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مذہبی امتیاز کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں، جبکہ کشمیری عوام کو بلا خوف و امتیاز اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر پر پاکستان کے عوام اور حکومت کی طرف سے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ حل طلب تنازعات میں شامل ہے،آٹھ دہائیوں سے بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے،وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کے عوام بھارتی قبضے کی زنجیروں کو توڑ کر خوف سے آزاد مستقبل میں اپنی زندگیاں بسر کریں گے۔۔انہوں نے کہا کہ دہائیوں کی خونریزی، ظلم و ستم اور بربریت کے باوجود،مقبوضہ جموں و کشمیر آج بھی بھاری فوجی موجودگی، مکمل جبر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے ، سیاسی نظر بندیاں، حقیقی سیاسی سرگرمیوں کا گلا گھونٹنا اور ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی مسلسل نگرانی، مذہبی آزادی کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مسلمان آبادی کو درپیش امتیازی سلوک کی واضح عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک طور پربھارتی قبضہ اب محض عسکری جبر تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے نظریاتی جبر کی شکل اختیار کر لی ہے جس کا مقصد ایک پوری قوم کو خاموش اور بے اختیار بنانا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انشا اللہ تاریکی کے یہ دن جلد آزادی کی روشن سحر میں بدل جائیں گے اور وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کے عوام بھارتی قبضے کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد ی کیساتھ اپنی زندگیاں بسر کریں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button