‘تمام بھارتی ہندو ہیں’—آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا متنازع بیان

ممبئی،:بھارت میں ہندوتوا ایجنڈے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک بار پھر بھارت کی مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے یہ متنازع دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے تمام افراد ہندو ہیں، جسے ناقدین نے مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کی جداگانہ شناخت کو مٹانے کی کھلی کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ممبئی میں دو روزہ لیکچر سیریز ”سنگھ کے 100 سالہ سفر—نئے افق” سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہاکہ ”ہم سب کو جو ایک شناخت متحد کرتی ہے وہ ہندو ہے۔ یہ ایک وسیع ثقافتی اور تہذیبی اصطلاح ہے، مذہبی نہیں۔ بھارت محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی رویے کی نمائندگی کرتا ہے۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارت میں زبانوں، خوراک اور مذہبی طریقوں میں تنوع پایا جاتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اختلافات ایک مشترکہ ثقافتی ڈھانچے کے اندر موجود ہیں۔ آر ایس ایس سربراہ نے ”دھرم نرپیکشتا” (سیکولرازم) کی اصطلاح پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا اور اس کی جگہ ”پنت نرپیکشتا” کی اصطلاح استعمال کرنے کی وکالت کی۔واضح رہے کہ ”دھرم نرپیکشتا” ہندی میں تمام مذاہب کے حوالے سے ریاستی غیرجانبداری کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ ”پنت نرپیکشتا” آر ایس ایس سربراہ کی گھڑی ہوئی اصطلاح ہے جس میں مذاہب کے بجائے فرقوں یا گروہوں کے حوالے سے غیرجانبداری پر زور دیا جاتا ہے۔تقریب میں شوبز کی متعدد شخصیات سلمان خان، رنبیر کپور، ہیما مالنی، اشونی بھاوے، گلوکارہ انورا پاؤڈوال اور فلم ساز سبھاش گھئی شامل تھے۔موہن بھاگوت کے اس بیان پر بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین اسے بھارتی شناخت کو ہندوتوا نظریے کے تحت ازسرِنو متعین کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ حامی حلقے اسے ثقافتی یکجہتی کا پیغام قرار دے رہے ہیں۔





