بھارت

پبلک ریلیشنز کے نام پربھارتی پروپیگنڈا مشینری مکمل طور پر بے نقاب

اسلام آباد:بھارت کا دفاعی مواصلاتی نظام کسی آزاد یا غیر جانبدار اطلاعاتی ڈھانچے کا نام نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والا ایک منظم عسکری پروپیگنڈا نیٹ ورک ہے جس کی قیادت ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز (DPR) کرتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ نظام دفاعی تھنک ٹینکس، ڈیجیٹل و سوشل میڈیا نیٹ ورکس، بین الاقوامی پی آر مہمات اور معلوماتی جنگ (Information Warfare) کے ذریعے اندرون و بیرونِ ملک بیانیے کو کنٹرول کرتا ہے۔ڈی پی آر بھارتی وزارتِ دفاع کا مرکزی پروپیگنڈا سینٹر ہے جو وزارتِ دفاع (MoD) کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس (DoD) کے تحت کام کرتا ہے اور نئی دہلی کے ساو¿تھ بلاک میں قائم ہے۔ اس کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اسٹریٹجک کمیونیکیشن) کرتے ہیں جو وزارت دفاع کے پرنسپل ڈیفنس اسپوکس پرسن بھی ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس کردار کو عسکری معلوماتی جنگ میں مرکزی حیثیت دی گئی جس میں میجر جنرل سندیپ ایس شرما جیسے افسران کا کردار نمایاں رہا، جنہیں بھارتی فوج کی معلوماتی جنگی حکمت عملی سے جوڑا جاتا ہے۔
ڈی پی آر کا ڈھانچہ غیر معمولی حد تک وسیع اور عسکری نوعیت کا ہے جس کا مرکزی ہیڈکوارٹرنئی دہلی میںہے اوراس کے بھارت بھر میں تقریباً 25 علاقائی دفاترہیں۔اس کے آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے اندر سروس الائنڈ پی آر یونٹس ہیںجن میں10,000 سے زائد اہلکارکام کرتے ہیں اوران میں صحافی، پی آر افسران، ڈیجیٹل ماہرین، میڈیا اینالسٹس اور انٹیلیجنس سپورٹ اسٹاف شامل ہے۔یہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ریاستی پروپیگنڈا ڈھانچہ تصور کیا جاتا ہے جس پر مو¿ثر پارلیمانی یا عوامی نگرانی موجود نہیں۔ اندرونِ ملک میڈیا سرگرمیاں،دفاعی پریس ریلیزز، بریفنگز اور انٹرویوزکا انعقاد،سینک سماچار اور دیگر فوجی جرائد کی اشاعت،فوجی مشقوں اور آپریشنز کی فوٹو اور ویڈیو گرافی،پریس ٹورز اور میڈیا سہولیات کی فراہمی،وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ساتھ قومی نشریاتی مہمات کا انعقاد، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا سرگرمیاں اس کے کام میں شامل ہیں۔یہ ایکس، ٹویٹر، فیس بک ،انسٹاگرام، یوٹیوب اورٹیلی گرام کے سرکاری اکاو¿نٹس چلاتا ہے ۔ملکی و غیر ملکی ڈیجیٹل انفلوئنسرز سے روابط،ڈیجیٹل مانیٹرنگ، بین الاقوامی اورعلاقائی میڈیا تک رسائی،غیر ملکی صحافیوں اور وفود کی میزبانی، خصوصی علاقائی مہمات،انگریزی زبان میں بین الاقوامی ڈیجیٹل مہمات،عالمی دفاعی نمائشوں اور کانفرنسز میں شرکت، اسٹریٹجک کمیونیکیشن اور انفارمیشن وارفیئر،مخالف ریاستوں اور میڈیا بیانیوں کی نگرانی،کاو¿نٹر ڈس انفارمیشن کے نام پر معلوماتی جنگ،اندرونی و بیرونی سامعین کے لیے ہدفی پیغام رسانی،خصوصی پروپیگنڈا مہمات (یومِ دفاع، بھرتی مہمات، قومی تقریبات)، عسکری مشقوں کی ویڈیو پروڈکشن،آرمی، نیوی اور ایئر فورس مشقوں کی فلم بندی اورملکی و بین الاقوامی ناظرین کے لیے ویڈیوز کی تیاری اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں پراربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ بھارت جو کچھ بھی ”عوامی معلومات“ اور”اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے نام پر کرتا ہے، وہ دراصل ریاستی خزانے سے چلنے والی منظم ذہن سازی ہے۔سالانہ اربوں روپے خرچ کر کے بھارت ایک ایسا نظام چلا رہا ہے جس کا مقصدرائے عامہ کو کنٹرول کرنا،اختلافی آوازوں کو دبانا،پڑوسی ممالک میں بیانیاتی مداخلت کرنااورعسکریت پسندی کو علمی اور اخلاقی جواز فراہم کرنا ہے اوریہ محض پبلک ریلیشنزکا ادارہ نہیں بلکہ مکمل معلوماتی جنگی مشینری ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button