بھارت

نیویارک میں سکھ رہنما کے قتل کی سازش، بھارتی حکومت سے منسلک شخص نکھل گپتا نے جرم قبول کر لیا

نیویارک:امریکی شہر نیو یارک بھارتی شہری نکھل گپتا نے خالصتان حامی سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا اعتراف کرلیاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت سے مبینہ طور پر منسلک قتل کی سازش میں ملوث شخص نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ نکھل گپتا نے نیو یارک میں فیڈرل کورٹ میں سماعت کے دوران جرم قبول کیا ہے۔ نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک ریپبلک سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے بعد میں امریکا ڈی پورٹ کیا گیا۔
بھارتی نژاد امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کو امریکا میں قتل کرنے کی سازش بے نقاب ہونے سے امریکا اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نکھل گپتا بھارتی حکومت کے تحت کام کرنے والے اس گروپ کا حصہ تھا جو اوورسیز علیحدگی پسند سکھوں کا نشانہ بناتا ہے۔استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک امریکی شہری کو قتل کروانے کی منصوبہ بندی کی۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ دنیا بھر میں سکھ رہنماو¿ں کے خلاف مبینہ حملوں کے وسیع تر سلسلے سے مشابہ ہے، جن میں کینیڈا میں ایک سکھ رہنما کا قتل بھی شامل ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران گپتا نے اپنے خلاف عائد تینوں الزامات قتل کے عوض معاوضہ اور دو سازشی دفعات قبول کر لیں، انہیں تقریباً 24 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
استغاثہ نے کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نے سکھ رہنما کے قتل کے منصوبے کو عملی جامہ پہننانے کیلئے منصوبہ عملی جامہ پہنانے نکھل گپتا کو مامور کیا تھا ۔
نکھل گپتا کو 2024 میں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ وہ مقدمے کا سامنا کر سکیں، سزا کا حتمی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا
یاد رہے کہ جون 2023 میں کینیڈا کے ایک گوردوارہ کے باہر خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کیا گیا تھا ۔ نجر کا قتل بھی بھارتی حکومت کی ایما پر کیا گیا تھا۔ کینیڈین حکومت نے اس حوالے سے ٹھوس شواہد بھی بھارت کو پیش کیے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button