نئی دلی:
بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار پر مودی حکومت کو ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج کمیونیکیشنز جے رام رمیش نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا "انتہائی پسندیدہ” بننا بھارت کے لئے ایک "یادگار دھچکا” ہے اور مودی ھکومت کواپنی و سفارتی حکمت عملی پر مکمل نظر ثانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے ہمیشہ پاکستان کوبدنام کرنے کی کوشش کی لیکن آج وہ پاکستان امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔جے رام رمیش نے نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے سفارتی سطح پر مکمل طوپر ناکام رہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ فیلڈ مارشل اور ان کے ساتھیوں نے صدرٹرمپ کی سوچ اور پالیسیوں کو بھارت کے مقابلے میں بہت بہتر طریقے سے سمجھا جوکہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔انہوں نے کہا، "بھارت کو اپنی سفارتی سرگرمیوںکی حکمت عملی پر مکمل نظر ثانی کی ضرورت ہے ،جو وزیراعظم مودی کے بس کی بات نہیں ۔





