مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت میں کشمیری طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک جاری ، داخلوں میں 67فیصد کمی

نئی دلی:
مودی کے بھارت میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے طلبہ کو مسلسل امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس کے باعث بھارت بھر میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ ریاست اترکھنڈ میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی تعداد میں تقریبا 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق چند برس قبل ریاست میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی تعداد تقریبا 6 ہزار تھی جو اب کم ہو کر لگ بھگ 2ہزار رہ گئی ہے۔2019کے پلوامہ واقعے کے بعد کشمیری طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہراسانی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ بعض کشمیر یطلبہ اور تاجروں نے عدم تحفظ کے باعث دیگر ریاستوں میں منتقل ہونے یا تعلیم ترک کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات تعلیمی اداروں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ناقدین کے مطابق حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button