بھارت

بھارت کے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ، شفافیت اور احتساب پر سنگین سوالات

اسلام آباد:بھارت کے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافے نے شدید تنقید کو جنم دیا ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود دفاعی خریداری کے نظام میں شفافیت اور احتساب کا فقدان برقرار ہے جبکہ کمیشن خوری کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دفاعی اخراجات میں حالیہ اضافہ بظاہر عسکری صلاحیت میں بہتری کے لیے کیا گیاہے ۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر یہ فنڈز بدعنوان عناصر کے لیے مالی فائدے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ دفاعی سازوسامان کی خریداری میں غیر معمولی تاخیر، پیچیدہ بیوروکریسی اور انتظامی رکاوٹیں ہر مرحلے پر عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ ہونے کے باوجود اہم آلات اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی تاخیر کا شکار ہے۔ اس صورتحال نے اس تاثر کو تقویت دیا ہے کہ وسائل کا موثر استعمال نہیں ہو رہا اور بعض معاہدے غیر شفاف طریقے سے طے کیے جا رہے ہیں۔فوجی یونٹس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں تاہم دفاعی خریداری کے نظام پر یہ اعتراض برقرار ہے کہ یہ سست رفتار، غیر واضح اور تاخیروں سے بھرپور ہے۔ مبینہ طور پر سیاسی سرپرستی اور غیر شفاف معاہدوں کے ذریعے فنڈز کے ضیاع کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق اگر دفاعی بجٹ میں اضافے کے ساتھ سخت نگرانی اور شفاف نظام متعارف نہ کرایا گیا تو یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، اور دفاعی اخراجات پر اٹھنے والے سوالات بدستور برقرار رہیں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button