بھارت

بھارت: مصنوعی ذہانت کی مدد سے 70ہزار کروڑ روپے کے بریانی سکینڈل کا انکشاف

نئی دلی:بھارت میں انکم ٹیکس محکمے کی ایک بڑی کارروائی کے دوران ملک گیر سطح پر پھیلے ہوئے 70 ہزار کروڑ روپے کے خطیر ٹیکس چوری کے سیکنڈل کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سکینڈل کو ”بریانی ٹیکس سکینڈل‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق معاملے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز حیدر آباد کے مشہور بریانی مراکز”پستہ ہاﺅس، شاہ غوث اور محفل “ پر معمول کی چیکنگ سے ہوا، جلد ہی یہ انکشاف ہوا کہ معاملہ محض چند دکانوں تک محدودنہیںہے بلکہ پورے بھارت میں پھیلا ہوا ایک منظم نیٹ ورک ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے ایک مخصوص بلنگ سافٹ ویئر کا ڈیٹا حاصل کیا جو ملک بھر کے 1.7لاکھ زائد ریسٹورنٹس میں استعمال ہوتا ہے ۔ یہ ریسٹورنٹس ایسے سافٹ ویئر کا ستعمال کر رہے تھے جو ٹیکس بچانے کیلئے مجرمانہ سہولت فراہم کرتاہے ۔ یہ سافٹ ویئر محض ایک کلک پر 30 دن تک کا مکمل سیلز ایکارڈ حذف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چونکہ کیش کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے اس لیے ریسٹورنٹس کیش رسیدیں ریکارڈ سے مٹا دیتے تھے اور صرف ایک چھوٹا حصہ بکس میں دکھاتے تھے۔ اوسطاً 25سے 27فیصد کل فروخت کو ریکارڈ پر نہیں لایا گیا تاکہ انکم ٹیکس اورجی ایس ٹی کی واجب الادارقم کم کی جاسکے۔ اس پیچیدہ دھوکہ دہی کو پکڑنے کیلئے محکمہ انکم ٹیکس نے بگ دیٹا انالیسس اور جینریٹو اے آئی جیسے جدید ٹو لز کا استعمال کیا ۔ تقریبا 60ٹیرا بائٹ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ گزشتہ چھ برس میں 19ہزار 4سو کروڑ روپے کے بلوںمیں غیر قانونی ردوبدل کیا گیا ہے ۔ خورد برد کا یہ کام پانچ ریاستوں میں پایا گیا جس میں کرناٹک ، تلنگانہ ، تامل ناڈو ، مہاراشٹر اور گجرات شامل ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button