بھارت بیرون ملک اپنی دہشت گرد کارروائیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ بنارہا ہے

نئی دہلی:تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت پاکستان کو بدنام کرنے اور بیرون ملک دہشت گردی کی اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر دہشت گردی کے اپنے جھوٹے بیانیے کو ترتیب دے رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ بیانیہ اس وقت سامنے آیا جب دہلی اور تامل ناڈو میں آٹھ افراد کو گرفتارکرکے انہیں پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے گروپوںکے ساتھ ملکردہشت گردی کی سازش کرنے کا الزام لگایاگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ افراد6 فروری کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آبادمیں ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے کا بدلہ لینے کے لئے تیار کئے گئے مبینہ منصوبے کا حصہ تھے۔ بھارتی پولیس نے تلاشی کی کارروائیوں کے دوران درجنوں موبائل فون اور سم کارڈ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور غیر ملکی روابط کی تصدیق کے لیے ان کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردارکیاہے کہ لال قلعہ کے قریب ممکنہ بم حملہ ہوسکتا ہے اوراسے لشکر طیبہ کا منصوبہ قراردیا گیاہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ تازہ ترین واقعہ بھارت کا پرانا ہتھکنڈا ہے جس کے تحت وہ اپنے ملک میںدہشت گردی کے خطرات کو بڑھا چڑھاکر پیش کرتا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر خود کو ایک متاثرہ ملک کے طور پر پیش کر سکے ، حالانکہ وہ خود بیرون ملک دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف عمل ہے۔ یہ گرفتاریاں بھارتی شہری نکھل گپتا کی بیرون ملک دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے اعتراف کے بعد عمل میں آئیں اوران کا مقصدبھارت کی ساکھ کو بچانے اور اپنے جرم کو چھپانے کے لیے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے دہشت گردی کی من گھڑت سازشوں کے بار بار استعمال سے اس کے دو مقاصدپورے ہوتے ہیں:ایک بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف ہیجانی کیفیت کو ہوا دینا اوردوسرا قومی سلامتی کی آڑ میں اقلیتی برادریوں خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنانااورہراساں کرنا۔ انہوں نے خبردارکیا کہ اس طرح کے ڈرامے جھوٹی خبروں پر مبنی مہم اور پراکسی جنگ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے بیانیے کو تسلیم کرنے سے پہلے احتیاط سے اس کا جائزہ لے۔








