روح اللہ مہدی کا راجستھان میں کشمیری طلباءپر حملے، معطلی پر اظہار تشویش

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںنیشنل کانفرنس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں کشمیری طلباءپر حملے اور معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیمی شفافیت، طلباءکی حفاظت اور ادارہ جاتی جوابدہی پر سنگین سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی ایس سی نرسنگ پروگرام میں داخلہ لینے والے کشمیری طلباءکو ڈگری مکمل کرنے سے چند ماہ قبل معطل کر دیا گیاہے جس سے وہ مایوسی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ انڈین نرسنگ کونسل اور راجستھان نرسنگ کونسل سے مطلوبہ رجسٹریشن حاصل کرنے میں یونیورسٹی کی ناکامی سے طلباءاپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں۔روح اللہ مہدی نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ معطلی کے احکامات کو منسوخ کریں، تشدد اور دھمکی کے الزامات کی منصفانہ انکوائری کو یقینی بنائیں اور پروگرام کی موجودہ حیثیت کو واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو باضابطہ طور پر راجستھان کے وزیر اعلیٰ اور انڈین نرسنگ کونسل کے صدر کے ساتھ اٹھائیں گے اوران سے فوری مداخلت اور متاثرہ طالب علموں کے لیے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کریں گے۔







