مقبوضہ جموں و کشمیر

کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے متاثرین35 سال گزرنے کے باوجود ا نصاف سے محروم

اسلام آباد:آج جب کشمیری خواتین کا یوم مزاحمت منایا جا رہا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر میںبھارتی فورسزکی طرف سے کشمیری خواتین کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیقکی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے مقبوضہ جموں وکشمیر میںجنوری 2001 سے اب تک کم از کم 690 خواتین کو شہید کیا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہجنوری 1989 سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 22,991 خواتین بیوہ ہو چکی ہیں جبکہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے مقبوضہ علاقے میں 11,269 خواتین کی بے حرمتی کی ہے۔کنٹرول لائن کے دونوں جانب آج کا دن ہرسال ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں اجتماعی عصمت دری اور تشدد کا نشانہ بننے والوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو یوم مزاحمت خواتین کے طور پر منانے کی اپیل سب سے پہلے2014 میں جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی نے کی تھی اور کل جماعتی حریت کانفرنس نے اس کی حمایت کی تھی۔بھارتی فوجیوں نے23 اور 24 فروری 1991 کی درمیانی رات کو کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران ہر عمر کی تقریباً 100 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی جن کی عمریں آٹھ سے اسی سال تک تھیں۔اس واقعے کی ہولناک یادیں متاثرین کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ متاثرین کے ایک گروپ نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس المناک واقعے نے ہماری زندگیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ثبوت موجود ہونے کے باوجود ملوث فوجیوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ اس دن کی برسی کے موقع پرمتاثرین نے کہا کہ یہ بھارت کے دوہرے معیار اور اس کیس پر عالمی اداروں کی خاموشی کے خلاف آواز اٹھانے کا دن ہے۔متاثرین کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ایک متاثرہ نے بتایا کہ اجتماعی عصمت دری کی وجہ سے میرا جسم جزوی طور پر مفلوج ہو گیا ہے۔متاثرہ خواتین میں سے ایک نے 25 مارچ 1991 کو ایک بچی کو جنم دیا جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی فوجیوں نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد میرے پیٹ پر لات ماری جس سے میری بچی زخمی ہوگئی اور وہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ پیدا ہوئی۔کنن پوشپورہ کے لوگوں نے بتایا کہ صدمے کی وجہ سے بہت سے متاثرین نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مناسب علاج اور کونسلنگ کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی متاثرین کی موت واقع ہوئی ہے۔متاثرین کا کہنا تھا کہ پتھریبل جعلی مقابلے کے کیس کی طرح اس اندوہناک واقعے میں ملوث بھارتی فوجیوں کو بھی آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت جوابدہی سے بچایا گیا ہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ 35 سال گزرنے کے باوجود متاثرین کو انصاف فراہم نہیں کیاجا رہا ہے جبکہ گھناو¿نے جرم میں ملوث فورسز کے اہلکار کالے قوانین کا سہارا لیکرآزاد گھوم رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ بھارت کی طرف سے اپنے فوجیوں کو دی گئی استثنیٰ کنن پوش پورہ جیسے سانحات کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں ہزاروں خواتین اپنے بیٹوں، شوہروں، والد اور بھائیوں سے محروم ہوئیں جن میں سے ہزاروں کو بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں نے دوران حراست میں لاپتہ کیا ہے۔ حریت رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت تین درجن سے زائد خواتین اور لڑکیوں کو مقبوضہ جموں وکشمیراور بھارت کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند رکھا گیاہے۔ انہیں صرف جموں و کشمیر کے لوگوں کی امنگوں کی نمائندگی کرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پرکا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی بربریت کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک دھبہ ہے جو مقبوضہ جموں وکشمیرمیں عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ سانحہ کنن پوش پورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت ادارہ جاتی سطح پرتشدد کا استعمال کررہا ہے اور اسکی فورسز جموں و کشمیر میں جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تذلیل کرنے اور ان کے جذبہ آزادی کو توڑنے کے لیے عصمت دری کو فوجی حربے کے طور پر استعمال کرہاہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارت پر کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کاکیس دوبارہ کھولنے اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے دباو¿ ڈالنا چاہیے اورکشمیریوں کے خلاف کیے گئے گھناو¿نے جرائم پر جوابدہ بنانا چاہیے۔
بھارتی وزارت داخلہ نے اگست 2025 میں 25 کتابوں پر پابندی لگا دی اور ان کوضبط کر لیا جن میں ایسر بتول کی تصنیف کردہ” کیا آپ کو کنن پوشپورہ یاد ہے؟ بھی شامل ہے۔سرینگر میں کتابوں کی ایک دکان کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہمیری دکان سے 27,000 روپے مالیت کی کتابیں ضبط کی گئیں۔5 اگست کو جن کتابوں پر پابندی عائد کی گئی تھی ان میں عصمت دری، تشدد اور ماورائے عدالت قتل سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیاگیا ہے۔ان میں بُکر انعام یافتہ اروندھتی رائے کی” آزادی“ اور Piotr Balcerowicz اور Agnieszka Kuszewska کی لکھی ہوئی” کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں“ جیسی کتابیں شامل ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ادب کو جرم قرار دینے کا بھارتی حکومت کا اقدام کشمیر کی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے اور اس کے ماضی کو مٹانے کی کوشش ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button