بھارت میں کشمیری شال فروشوں پرنفرت انگیز حملوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ
نئی دلی:
مودی کے بھارت میں کشمیری شال فروشوں اور مہاجر مزدوروں کے خلاف نفرت انگیز حملوں، ہراسانی اور ان پر وحشیانہ تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہندو توا بلوائیوں کے ان حملوں کی وجہ سے کئی کشمیری تاجروں کو اپنا کاروبار محدود یا گھر واپس جانا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں شدید معاشی نقصانات برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔معروف ٹی وی چینل الجزیرہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ہزاروں گھریلو تاجر جو مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، سردیوں میں شالیں اور دستکاری کے سامان فروخت کرنے کے لیے بھارت کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں نفرت انگیز حملوں کے باعث کئی تاجروں کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے یا گھر واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔رپورٹ میں 18سالہ تابش احمد غنی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بھی شامل ہے، جس پر اتر پردیش کے وکاس نگر میں ایک دکاندار نے لوہے کی سلاخ سے حملہ کیا۔ حملہ آور نے جبری طور پر اسلام مخالف تبصرے کیے، جس کے نتیجے میں تابش کے سر پر زخم اور ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ تابش نے بتایا کہ انہیں صرف اپنے کشمیری مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح ایک اور شال فروش بلال احمد پر کاشی پور میں حملہ کیا گیا کیونکہ وہ ایک قومی نعرہ لگانے سے انکار کر رہا تھا۔ واقعے کے بعد، احمد نے اپنا کاروبار بند کر کے تحفظ کے خدشات کے پیش نظر واپس کشمیر چلے جانے کا فیصلہ کیا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نفرت انگیز حملے اور ہراسانی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے کشمیری تاجروں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، اور وہ اب بھارت میں آزادانہ طور پر کاروبار کرنے کے قابل نہیں رہے۔رپورٹ میں اس صورتحال کو انسانی حقوق کے لیے تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔








