کشمیریوں کو آیت اللہ خامنہ ای کا 1980 کا دورہ کشمیر آج بھی یاد ہے

سرینگر:ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے 1980 کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ان کے اہم دورے کی یادیں تازہ کر دی ہیں جہاں انہوں نے شیعہ سنی اتحاد کو فروغ دینے کے لیے جامع مسجد سرینگر میں ایک تاریخی خطاب کیا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوجوان عالم دین جو بعد میں روح اللہ خمینی کی جگہ ایران کے سپریم لیڈر بنے،بیرون ملک مسلمان کمیونٹیز کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتے تھے۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے 48 گھنٹے کے دورے میں مقامی رہنماوں سے ملاقاتیں، مختلف خانقاہوںکے دورے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے خطاب شامل تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرینگر کے ہوائی اڈے پر لوگوں کی بڑی تعد ادجمع ہوئی تھی جوپوری وادی سے آئے تھے۔ میرواعظ مولوی محمد فاروق کی زیر قیادت جامع مسجد سرینگر میں ان کا خطاب مقامی فرقہ وارانہ تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ مقامی لوگ اسے کشمیر کی مذہبی تاریخ میں ایک اہم واقعہ قراردیتے ہیں جس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ ملا۔






