بھارت اپنے دیرینہ دوست کو مروا رہا ہے اور ایک دوست کو دوسرے سے لڑا رہا ہے

اسلام آباد:وزیرِ اعظم مودی کی ایران کے حوالے سے سفارتی خاموشی مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں بھارت کے جانبدارانہ موقف کو ظاہر کرتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وزیرِ اعظم مودی کی سفارت کاری ایران کے ساتھ طویل المدتی تعلقات سے بھارت کے مفاد پرستانہ انحراف کو بے نقاب کرتی ہے۔مودی نے ایرانی قیادت سے رابطہ کرنے یا اسرائیل کو تہران پر حملے سے روکنے کے بجائے متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد کو فون کیا، ان سے اظہار یکجہتی کیا اور ایرانی جوابی حملوں کی مذمت کی۔ یہ یکطرفہ سفارتی رابطہ ایران مخالف اتحادیوں کی جزوی حمایت کا اشارہ دیتا ہے۔بھارت نے دہائیوں تک ایران سے رعایتی قیمت پر تیل کا فائدہ اٹھایا اور افغانستان اور وسطی ایشیا تک اسٹریٹجک رسائی کے لیے چاہ بہار بندرگاہ میں بھاری سرمایہ کاری کی اور 2024میں دس سالہ معاہدہ کیا۔لیکن 2026 کے بحران کے دوران مودی نے ایرانی قیادت سے براہِ راست بات کرنے سے گریز کیا، اسرائیل سے ایران پر حملے روکنے کی اپیل تک نہیں کی اور اس کے بجائے ایران کے دفاعی جوابی اقدامات کی مذمت کی۔ 2026 میں امریکی دباو اور پابندیوں کی وجہ سے چاہ بہار کے لیے کوئی بجٹ مختص نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت خلیجی معاشی تعلقات کو ترجیح دیتے ہوئے ایران سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے۔ بھارت۔اسرائیل تعاون خطے میں کشیدگی بڑھانے، علاقائی انتشار کو گہرا کرنے اور مسلم امہ کے اتحاد کے خاتمے کا سبب بن رہا ہے۔






