بھارت بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ایک اور ذلت آمیز شکست کیلئے تیار رہے
ہمسایہ ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، صدرِ مملکت

اسلام آباد :صدرآصف علی زرداری نے جنگ کو آخری حل قرار دیتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ ایک اور ذلت و توہین آمیز شکست کے لیے تیار رہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق صدرمملکت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے سالانہ خطاب میں واضح کیا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ہم آپ کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مقصد کی مکمل سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔صدرنے کشمیر اور فلسطین کے تنازعات ، خلیج کے خطے میں جاری کشیدگی، معرکہ حق اور غضب للحق آپریشنز، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، معیشت، صوبائی خودمختاری اور غربت سمیت قومی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے واضح کیاکہ جب تک کشمیری عوام بھارت کے ناجائز اورغاصبانہ قبضے سے آزادی حاصل نہیں کرتے اس وقت تک جنوبی ایشیا میں کوئی بھی آزاد اور محفوظ نہیں ہو سکتا۔ معرکہ حق کاذکرکرتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان نے ابتدا میں بھارت کی جانب سے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا تاہم بعد میں مسلح افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے حملے کو ایک تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا۔معرکہ حق کے حوالہ سے صدر مملکت نے کہاکہ یہ صرف ایک فوجی فتح نہیں تھی یہ بحران کے وقت ہمارے قومی عزم کا اظہار تھا، ہم نے بھارت کی جارحیت کا بہادری سے مقابلہ کیا اور عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر سرخرو ہو کر ابھرے،ہمارے فیصلہ کن اور اصولی موقف کو عالمی دارالحکومتوں نے بلا شبہ تسلیم کیا۔بھارتی رہنمائوں کی جانب سے ایک اور جنگ کی تیاری کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ علاقائی امن کے تاحیات داعی کے طورپر وہ اس کی سفارش نہیں کریں گے تاہم اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہیں گے کہ کوئی بھی جارح ایک اور ذلت آمیز شکست کے لیے تیار رہے، پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے اور جب ضرورت پڑے تو فیصلہ کن انداز میں اپنا دفاع کرنا بھی جانتا ہے۔صدر مملکت نے کہاکہ کہ دریائوں کے بہائو میں بھارت کی چھیڑ چھاڑ اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا کھلی آبی دہشت گردی ہے جس کے ذریعے اہم آبی وسائل کو سیاسی دبائو کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کی زرعی معیشت خطرے میں پڑ رہی ہے اور بین الاقوامی و انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، یہ یکطرفہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت ناقابل قبول ہے، پاکستان علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے اپنے آبی حقوق کا غیر متزلزل اتحاد، عزم، طاقت اور قانونی وضاحت کے ساتھ دفاع کرے گا۔فلسطینی عوام کی مشکلات اور غزہ کی تباہی کو اجاگر کرتے ہوئے صدر مملکت نے 1967 سے قبل کی سرحدوں اور دارالحکومت القدس الشریف پرمشتمل آزاد اور غیر منقسم فلسطینی ریاست کے قیام کی پاکستان کی غیر متزلزل اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش کے عوام کو انتخابات کے انعقاد اور نئی حکومت کے قیام پر مبارکباد دی اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہونے جا رہے ہیں۔غضب للحق آپریشن کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ26فروری کی رات افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں مسلح افواج نے فیصلہ کن کارروائی کی۔ پاکستان نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی اور دراندازیوں کے ردِعمل میں فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کیا، ہمارے لیے جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہوتی ہے،کوئی ریاست اپنی سرزمین پر مسلسل حملے برداشت نہیں کرتی ہم نے بھارت اور افغانستان دونوں کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھائی ہے۔ صدرمملکت نے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کی مذمت کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر دلی تعزیت کا اظہاربھی کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ جتنی جلد خطے میں استحکام واپس آئے گا، اتنی ہی جلد دنیا زندگیوں اور مجروح اعتماد کی بحالی کے کام کی طرف لوٹ سکے گی۔







