مقبوضہ کشمیر :ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر دوسرے دن بھی سخت پابندیاں جاری
پابندیوں کے باوجود متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے اور مذہبی اجتماعات کا انعقاد

سرینگر:ایران میں امریکی۔اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مسلسل دوسرے دن بھی سخت پابندیاں جاری رہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر شہر میں لوگوںاور گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔ بڑے چوراہوں اور بازاروں پر بھارتی پولیس اور پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک اور دیگر اہم مقامات پرلوگوں ی نقل و حرکت روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی اور خار دار تاریں لگادی گئی ہیں ۔وادی کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کی سخت پابندیاں نافذہیں، خصوصا شیعہ اکثریتی علاقوں جیسے بڈگام، ماگام، گنڈ حسی بات، میرگنڈ، پٹن اور پلہالن میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ وادی کشمیر میں تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ کشمیر یونیورسٹی نے اپنے امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی رفتار بھی کم کر دی گئی ہے۔پابندیوں کے باوجود سرینگر کے علاقوں زیڈی بل ، سیدا کدل، لال بازار، چٹابل، حبہ کدل اور پنڈریتھن میں آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کی شہادت پر مذہبی اجتماعات منعقد ہوئے اورسوگواران نے قرآن خوانی کی، ظہر کی نماز ادا کی اور تعزیتی تقاریر کیں۔
ادھروادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب لوگوں نے سرینگر، بڈگام، بارہمولہ اور بانڈی پورہ میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج شروع کیا ۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں منتقل کیا گیاہے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔بھارتی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکلنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور احتجاج جاری رہنے کی صورت میں مزید سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔







