مقبوضہ جموں و کشمیر

محبوبہ مفتی کی ایران کیخلاف امریکی اسرائیلی جارحیت پر مودی حکومت کی خاموشی پرکڑی تنقید

سرینگر:
غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی جارحیت پر مودی حکومت کی خاموشی کو ناقابل فہم قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری ملک ہونے کے دعویدار بھارت کے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، مگر اس کے باوجود نہ تو حکومتی سطح پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی کوئی مذمت کی گئی ہے اور نہ ہی عوامی سطح پر اس پر افسوس کا اظہار کیا گیاہے۔انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی نظام عملا ًناکام ہو چکا ہے۔ محبوبہ مفتی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خودمختار ممالک پر حملے عالمی قوانین اور اخلاقی اصولوں کی صریحاخلاف ورزی ہیں۔اس موقع پر احتجاج کے دوران صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے پتلے نذرِ آتش کیے گئے اور تہران کے ساتھ یکجہتی کا اظہارِکیاگیا۔ انہوں نے کہا، ہمارے دل رنج و غم سے بھرے ہیں۔ اگرچہ ہمیں کھلے عام احتجاج کی اجازت نہیں، لیکن کم از کم ہم نے ان طاقتوں کے خلاف علامتی احتجاج کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ایران کے عوام کے ساتھ ہیں اور ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے خلیجی اور مشرقِ وسطی کے مسلم ممالک کے غیر فعال کردار پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں امن اور انصاف کے لیے واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔ محبوبہ مفتی نے وادی کشمیر میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتارکئے گئے کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button