راجوری جیل میں بھارتی پولیس کی وحشیانہ کارروائی سے متعدد قیدی زخمی

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع راجوری میں واقع ڈسٹرکٹ جیل ڈھنگری کے اندر بھارتی پولیس کی وحشیانہ کارروائی سے متعدد قیدی زخمی ہوگئے جس سے جیلوں میں نظربند کشمیریوں کو درپیش سنگین حالات کی عکاسی ہوتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس کی کارروائی دو قیدیوں کے درمیان بحث کی آڑ میں کی گئی جو بعد میں جیل کے اندر موجود دیگر قیدیوں کے درمیان جھگڑے کی شکل اختیار کرگئی۔پولیس کارروائی کے ردعمل میں قیدیوں نے کمبلوں کو آگ لگا دی اور جیل کے محافظوں اور پولیس اہلکاروں پر پتھراو¿ کیا۔ پولیس کی کارروائی کے دوران متعدد قیدی زخمی ہوگئے۔امن و امان کی بحالی کے لیے جیل کے اندر اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات خاص طور پر کشمیری نظربندوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں جنہیں اکثرکالے قوانین کے تحت نظربند کیاجاتا ہے اور انہیں مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دریں اثناءضلع ڈوڈہ میں بھدرواہ ڈسٹرکٹ جیل کے حکام نے ایک پارسل پکڑنے کا دعوی کیا ہے جس میں دو موبائل فون تھے جو مبینہ طور پرضلع بانڈی پورہ کے علاقے حاجن سے تعلق رکھنے والے ایک قیدی کے لیے تھے۔ادھر پولیس نے ڈسٹرکٹ جیل کٹھوعہ کی تلاشی لی۔ قابض حکام نے بتایا کہ سینئر پولیس حکام کی موجودگی میںجیل کی تمام بیرکوں کی تلاشی لی گئی، تاہم کوئی قابل اعتراض چیز برآمدنہیں ہوئی۔سیاسی تجزیہ کاروں اورانسانی حقوق کے کارکنوںکا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں جیلوں کے اندر اکثر واقعات قیدیوں خاص طور پر کشمیری نظر بندوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی نشاندہی کرتے ہیں جنہیں پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوںکی روک تھام کے قانون جیسے کالے قوانین کے تحت نظربندکیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں سمیت ہزاروں کشمیری مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں جنہیں اکثر طویل نظر بندی اور ظالمانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے








