بھارت

مودی نے ایران پر حملے کی مذمت نہ کرکے بھارت کو امریکہ اسرائیل کیمپ میں کھڑاکردیا

نئی دہلی:سیاسی ماہرین اورتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے ایران پر حملے کی مذمت نہ کرکے بھارت کو امریکہ اسرائیل کیمپ میں کھڑاکردیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بین الاقوامی جریدے ”ڈپلومٹ“میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کوبے نقاب کیاگیا ہے۔مضمون میں کہاگیا ہے کہ مودی نے بھارت کو اسرائیل۔امریکہ کیمپ میں کھڑا کر دیا ہے۔بھارت نے اپنے دیرینہ دوست ایران پر امریکہ۔اسرائیل حملوں کی مذمت تک نہیں کی۔ اسرائیل کی حمایت اور ایران کے خلاف حملے پر خاموشی نے عالمی سطح پر بھارت کے وقار کو کم کردیا۔مضمون میں کہاگیاہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 25اور26 فروری 2026 کواسرائیل کا دورہ کیا۔ مودی کے دورہ اسرائیل پر داخلی اور عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی۔ ناقدین کے مطابق ایران جنگ کے باعث دورے کی ٹائمنگ اہم ہے کیونکہ مودی کے واپس جانے کے 48 گھنٹے بعد ایران پر حملہ کیاگیا۔ایک ریٹائرڈ بھارتی سفارتکارایم کے بھدراکمارکے مطابق نیتن یاہو نے مودی کو ممکنہ حملے کے بارے میں بتایا ہوگا۔ مودی نے دورے کے موقع پر اسرائیل کے لیے کھلے عام سیاسی حمایت ظاہر کی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب میں مودی نے کہاکہ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑاہے اورکھڑا رہے گا۔ نیتن یاہو جنگی جرائم کے الزامات پر عالمی فوجداری عدالت کو مطلوب ہے ، اس کے باوجود مودی نے دورے میں نیتن یاہو کو گلے لگایا۔ مودی نے حماس حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں پر تعزیت کا اظہار کیا لیکن غزہ جنگ یا اسرائیلی کارروائیوں پر کوئی بات نہیں جن میں اسرئیل نے 73 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہیدکیا۔ کانگریس رہنما جے رام رمیش نے مودی کے مو¿قف پر تنقیدکرتے ہوئے ان کے رویے کو اخلاقی بزدلی اور دورے کو شرمناک قرار دیا۔جے رام رمیش کے مطابق اسرائیل کی حمایت بھارت کی تاریخی پالیسی سے انحراف ہے۔ امریکہ کے قریب ہونے سے بھارت کی مغربی ایشیا پالیسی تبدیل ہوئی ہے۔ 2005 میں بھارت نے آئی اے ای اے میں ایران کے خلاف ووٹ دیا۔2014 میں بی جے پی کے برسراقتدارآنے کے بعدبھارت کا اسرائیل کی طرف جھکاو¿ بڑھ گیا۔اس سے پہلے بھارت اقوام متحدہ میں مسلسل فلسطین کی حمایت میں ووٹ دیتارہا۔2014 کے بعد بھارت نے اپنیپالیسی تبدیل کردی اور بعض قراردادوں میں فلسطین کی حمایت کی اور بعض میں اسرائیل کی مخالفت سے گریزکیا۔ غزہ جنگ کے دوران بھی بھارت نے یہی محتاط سفارتی حکمت عملی جاری رکھی۔ مبصرین کے مطابق بھارت تزویراتی طور پر اسرائیل کے زیادہ قریب چلاگیاہے۔بھارتی صحافی بھارت بھوشن کے مطابق بھارت اسرائیل امریکہ کیمپ میں چلاگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی بھارت کے گلوبل ساو¿تھ دعوے کوکمزور کرتی ہے۔ بھارت نے ایران پر اسرائیل امریکہ حملوں کی واضح مذمت نہیں اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر بیان دینے سے گریز کیا جبکہ ایران میں ایک اسکول پر بمباری میں 165 بچوں کی ہلاکت پربھی خاموش رہا۔ مودی نے صرف یو اے ای پر حملوں کی مذمت کی ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button