بھارت :تنقید سے خوفزدہ نااہل مودی حکومت کی سوشل میڈیا پر بد ترین سنسرشپ
نئی دلی:
بھارت میں ہندوتوا نظریہ کی بنیاد پر برسراقتدار انتہا پسند مودی حکومت نے تنقید سے خوفزدہ ہوکراختلافی آوازوں کا گلا گھونٹاشروع کر دیاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی کی بھارتی حکومت کی نفرت انگیز اورفرقہ پرست پالیسیوں اور ناکام سفارت کاری کوملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے ۔بھارتی جریدے دی وائر کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بھارتی حکومت سوشل میڈیا پر تنقیدی پوسٹیں آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69اے کے تحت بلاک کررہی ہے۔ گزشتہ سال کے پہلے چھ ماہ میں سوشل میڈیا سے مواد ہٹانے کے واقعات 2023کے مقابلے میں 300 فیصد بڑھ گئے ہیں۔دی وائر کی اپنی دو طنزیہ ویڈیوز اور بانی ایڈیٹر کی ایک ری پوسٹ بھی ایکس اور انسٹاگرام سے ہٹا دی گئی۔ بھارتی صحافیوں ، کارٹونسٹ اور سیاسی ناقدین کی پوسٹس بھی ہٹائی گئیں۔ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی جانب سے تنقیدی سوشل میڈیا پوسٹس بلاک کرنا اظہارِ رائے کی آزادی پر براہِ راست حملہ ہے۔ مودی حکومت کے آمرانہ اقدامات شفافیت کی کمی کو نمایاں اور نام نہاد بھارتی جمہوریت کی قلعی کھول رہے ہیں۔ بھارت میں عوام مودی کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں جس سے بھارتی حکومت دبا میں نظر آ رہی ہے۔






