‘بھارت میں بڑھتی نفرت’ان پر قاتلانہ حملہ کی وجہ ہے ،فاروق عبداللہ
ان کی سیکورٹی کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا ، فاروق عبداللہ کا سکیورٹی ایجنسیوں پر کڑی تنقید
جموں:
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں”بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت”کو خود پر قاتلانہ حملہ کی بڑی وجہ قرار دیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے خود پر قاتلانہ حملے کے بعد جموںمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ناکافی سکیورٹی انتظامات پر سوال اٹھائے ۔ انہوں نے کہاکہ آج کے ماحول میں محبت اور بھائی چارے کی بات کرنے والوں کے لیے جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔انہوں نے خود پر قاتلانہ حملہ پر بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ شادی کی تقریب میں ان سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔تاہم وہاں سکیورٹی کاکوئی انتظام موجود نہیں تھا اور نہ ہی پولیس اہلکار تعینات تھی ۔فاروق عبداللہ نے کہاکہ ان کی ذاتی سکیورٹی اور ساتھ موجود این ایس جی گارڈز نے ان کی جان بچائیء اور حملہ آور کو فورا دبوچ لیا ۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے کرم اور ذاتی سکیورٹی کی بروقت کارروائی کی وجہ سے وہ حملے میں محفوظ رہے۔انکے ذاتی سکیورٹی گارڈزکا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ان کی زندگی بچائی ۔فاروق عبداللہ نے وزیراعظم مودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے، وہ لیفٹیننٹ گورنر سے پوچھیں کہ کیا واقعی مقبوضہ علاقے میں حالات بہتر ہوئے ہیں؟ انہوں نے واضح کیاکہ اگرچہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں ہر آواز کو سنا جانا چاہیے ، مگر مودی حکومت کے دور میں حالات بڑی حد تک خراب ہو چکے ہیں۔
ادھر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے کمل سنگھ جموال کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہے جس اسے پولیس اسٹیشن میں کرسی پر بیٹھے ہوئے دکھایاگیاہے ۔ ویڈیو میں کمل سنگھ جموال ایک پولیس اہلکار کو بتا رہا ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے فاروق عبداللہ کوقتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔کمل سنگھ جموال ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کا سرگرم رکن رہ چکا ہے،جو ایک مندی کمیٹی کا رکن بھی ہے ۔جموں کی ایک عدالت نے کمل سنگھ جموال کو پانچ روزہ پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا ہے۔





