برازیل میں برکس سربراہ اجلاس میں بھارت کو ایک اور سفارتی دھچکا
اعلامیہ میں پہلگام واقعہ کی مذمت توکی گئی لیکن پاکستان کا نام نہیں لیا گیا
ریو ڈی جنیرو:
برازیل میں برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کو ایک اور سفارتی دھچکا لگا ہے ۔ سربراہ اجلاس کے اعلامیے میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی مذمت توکی گئی لیکن مودی سرکار کی سرتوڑ کوشش کے باوجود پاکستان کا نام نہیں لیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں پاکستان کا نام شامل کروانے کی بھرپور کوشش کی جو کہ ناکام رہی اور برکس اعلامیہ بھارت کی ایک اور واضح سفارتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے ۔برکس اعلامیے میں الفاظ مکمل طور پر غیر جانبدار رکھے گئے ہیں، برکس اجلاس میں دو اہم ممالک چین اور روس کے سربراہ بھی شریک نہیں ہوئے، 2012کے بعد چینی صدر پہلی مرتبہ اس اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ان اہم عالمی دو رہنمائوں کی عدم شرکت ثابت کرتی ہے کہ چین اور روس بھارتی بیانیے کاساتھ دینے کے حق میں نہیں، یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت کو ایسی سفارتی ناکامی کا سامنا ہوا ہو۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں بھی بھارت کی کوشش ناکام رہی اور وہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کااسکا پروپیگنڈا نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکاتھا۔کواڈ اتحاد کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اعلامیہ میں بھی بھارت کو ایسی ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ 26جون کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھی بھارت کو شدید سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑاتھا جب شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں بھارت کی پاکستان مخالف کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔پہلگام واقعہ کو پاکستان سے جوڑنے پر کسی ملک نے بھارت کا ساتھ نہیں دیا تھا۔







