مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم و جبرجاری رکھنے کے لئے مختلف کہانیاں گھڑ رہا ہے

Indian policemen detain a Indian Kashmiri during clashes with Indian police following gun fights between suspected militants and Indian forces in South Kashmir, in Srinagar on April 1, 2018.
Indian forces have killed eight suspected militants in disputed Kashmir, police said on April 1, in some of the fiercest fighting this year in the restive Himalayan region. A civilian was also killed and four soldiers injured in the region divided between India and Pakistan but claimed in full by both.
/ AFP PHOTO / HABIB NAQASH

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے ضلع سا نبہ میں ورکنگ باو¿نڈری کے پارسے ڈرون کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ کے بھارتی بیانیے کو مسلسل پروپیگنڈہ قراردیتے ہوئے ر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے لئے جواز پیداکرنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی ڈرون نے جمعہ کی رات دیر گئے ورکنگ باو¿نڈری پار کر کے رام گڑھ سیکٹر کے دیہات کندرال، ابتل اور بہادر پور کے اوپر پرواز کی جس کے بعد کئی دیہاتوں میں بڑے پیمانے تلاشی کی کارروائی شروع کی گئی۔ بھارتی فورسز نے بین الاقوامی منڈی میں 20 کروڑ روپے مالیت کی 3.5 کلو گرام سے زائد ہیروئن برآمدکرنے اور آر ایس پورہ سیکٹر میں منشیات کے دو مشتبہ سمگلروں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لینے کا دعویٰ کیا۔تاہم مبصرین اور مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈرون اورمنشیات کی یہ کہانیاں کشمیری شہریوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے جواز پیدا کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ بے گناہ شہریوں کو ہراساں کرنے، اندھا دھند تلاشی کارروائیوں اور لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی غرض سے جواز پیدا کرنے کے لیے یہ جھوٹے بہانے تراشے جاتے ہیں۔ بھارت کشمیریوں کی تحریک حق خودارادیت کو منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی سے جوڑ کر ایک جائز سیاسی تحریک کو جرم قراردینے اور گورننس اورسکیورٹی میں اپنی ناکامامیوں کوچھپانے کی کوشش کررہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بار بارمقبوضہ جموں وکشمیر میں محاصرے اورتلاشی کی ظالمانہ کاررائیوں، بلاجواز گرفتاریوں، شہریوں کو ہراساں کرنے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگرکیاہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اکثر پہلے سے طے شدہ بیانیے جیسے کہ مبینہ ڈرون ڈراپ یا سرحد پار اسمگلنگ کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں جو علاقے میں بڑے پیمانے پرجاری ظلم و جبر سے توجہ ہٹانے کے لیے تیار کیاجاتا ہے۔تجزیہ کاروں نے سانبہ کے تازہ آپریشن کو بھی ایک اور”من گھڑت ڈرون ڈراپ کی کہانی“ قراردےتے ہوئے مسترد کر دیا اورکہا کہ اس طرح کے ڈراموں سے زمینی حقائق کو چھپا یا نہیں جاسکتا، جہاں کشمیری مسلسل سنگینوں کے سائے اور جبر کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک مقامی کارکن نے کہا کہ دنیا کو بھارت کے رچائے گئے ڈرامے سے آگے دیکھنا چاہیے اور مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں پر توجہ دینی چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button