ہائی کورٹ نے کالے قانون کے تحت ایک کشمیری کی نظربندی کالعدم قراردے دی
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت ایک کشمیری کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکم مبہم الزامات کی بنیاد جاری کیاگیا ہے اور اس میں مناسب وجہ نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس راہول بھارتی نے فیصلہ سناتے ہوئے نظربند احتشام الحق ڈار کو فوری طور پر رہا کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے کہاکہ بانڈی پورہ کے ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے مئی 2025 میں جاری کیاگیانظربندی کا حکمنامہ بنیادی طور پر پولیس کے ایک دستاویز پر مبنی تھاجس میں احتشام الحق ڈار پر امن عامہ کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔تاہم عدالت نے نظربندی کے جواز کے لیے استعمال ہونے والے مواد کو ناکافی اور بے بنیاد مفروضوں پر مبنی پایا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نظربندی کی بنیادیں محض پولیس ڈوزیئر کی زبانی نقل تھی جس میں حکام کی طرف سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیاگیا۔ عدالت نے نظر بندی کے حکم کومبہم اورقیاس آرائی پر مبنی قراردیتے ہوئے کہا کہ ا س کے لئے قابل اعتبار اور ٹھوس شواہدہونے چاہیے۔عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ڈار کی فوری رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نظربندی کے حکم نامے کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے اور اسے منسوخ کیا جاتا ہے۔




