سابق آر ایس ایس لیڈر کے انکشافات نے بھارت میں انتہا پسندی اور سیاسی تشدد پر نئی بحث چھیڑ دی
نئی دلی: بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں مذہبی انتہا پسندی، سیاسی تشدد اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہندوانتہاپسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ یشونت شندے نے آر ایس ایس سے متعلق مبینہ انکشافات میں دعویٰ کیا ہے کہ ماضی میں بعض شدت پسند عناصر نے فرقہ وارانہ کشیدگی کو منظم انداز میں ہوا دینے کی کوشش کی۔ اس کے بیانات میں 2000سے 2008کے درمیانی عرصے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر تربیتی سرگرمیوں اور پرتشدد واقعات کا ذکر کیا گیا۔یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی حالیہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کی صورتحال پرسخت تشویش کا اظہار کیاگیاہے ۔ رپورٹ میں آ ایس ایس پر پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد The Wire کو دئے گئے یشونت شندے کاانٹرویو دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے جس میں سینئر سابق آر ایس ایس پرچارک یشونت شندے نے ایک آر ایس ایس کے منظم دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے، جو آر ایس ایس اور اس سے وابستہ گروپوں کی جانب سے چلایا جا رہا تھا۔ اس نیٹ ورک میں سیاسی رہنمائوں کو بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث دکھایا گیا ہے، جس کا مقصد ووٹروں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر کے اقتدار پر قبضہ جمانا تھا۔ بھارت عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتی ہوئی ہندوتوا انتہا پسندی اور دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے بے نقاب ہو رہا ہے، جو آر ایس ایس، بی جے پی، وی ایچ پی اور بجرنگ دل سے وابستہ ہندو انتہاپسند وں کے ذریعے منظم کی جاتی ہیں۔ یشونت شندے کے انکشافات ایک خوفناک کہانی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح 2000سے 2008کے درمیان ایک دہشت گرد نیٹ ورک فعال رہا، جس کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانا اوربھارت کی سیکولر شناخت کو کمزور کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا۔ امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں بھی یشونت شندے کے دھماکہ خیز الزامات سے متعلق ایک مربوط دہشت گرد منصوبے کو بے نقاب کیاگیا ۔ اس منصوبے کے تحت ناندیڑ اور پونے میں خفیہ تربیتی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں شدت پسندوں کو ٹائم بم تیار کرنے کی تربیت دی گئی۔ حملوں کے اہداف میں مسلم شادی ہالز، مساجد اور عام شہری شامل تھے، تاکہ ملک میں ہندو مسلم فسادات بھڑکائے جا سکیں۔ بجرنگ دل سے وابستہ ہندوانتہاپسندوں نے پربھنی، پورنا، جلنا اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں جیسے واقعات میں نمایاں کردار ادا کیا، جن سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں اس نوعیت کے الزامات نہایت حساس ہوتے ہیں، اس لیے ان کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر حتمی رائے قائم کرنے کے لیے عدالتی ریکارڈ، سرکاری تحقیقات اور مستند شواہد کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور عوامی اعتماد برقرار رہے۔






