بھارت میں حکومتی پالیسیوں کے سبب مذہبی آزادی اورانسانی حقوق مسلسل خطرے میں ہیں، امریکی کمیشن

gayatri-malhotra-unsplash1-scaledنئی دہلی 24 نومبر (کے ایم ایس) بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) کی 2022 کی رپورٹ میں ایک بار پھر امریکی محکمہ خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو ”خاص تشویش کا ملک“ قرار دے کیونکہ حکومتی پالیسیوں کی بنا پر بھارت میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق مسلسل خطرے میں ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں سول سوسائٹی اور اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاو¿ن، تبدیلی مذہب مخالف قوانین، گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے قوانین، کرناٹک میں حجاب پر پابندی، غلط معلومات کا پھیلاﺅ ، نفرت انگیز تقریر، مذہبی برادریوں پر حملے ، شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر جیسے مختلف مسائل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 میں بھارت میں بھی مذہبی آزادی کے حالات خراب رہے اور حکومت نے قومی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر پالیسیوں کو فروغ دینے اور نافذ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت نے تنقیدی آوازوں کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھا اور خاص طور پر مذہبی اقلیتوں اور ان کے حق میں آواز اٹھانے کو ہراساں کیا جاتا رہا۔ املاک کی غیر قانونی مسماری اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت حراست میں لینے کا عمل بھی بدستور جاری رہا۔ رپورٹ میں آلٹ نیوز کے شریک بانی اور محمد زبیر اور صحافی صدیق کپن کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ صحافیوں، وکلاء، حقوق کے کارکنوں، ماہرین تعلیم کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں۔
رپورٹ میں تبدیلی مذہب مخالف قوانین کے بارے میںکہا گیا کہ یہ قوانین ہندو قوم پرستوں کو ہندو عقیدے کے تحفظ کی آڑ میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف امتیازی سلوک کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کی طرف سے ان پالیسیوں کے اطلاق کے عمل نے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہراساں کرنے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے حوالے سے استثنیٰ کا ایک کلچر پیدا کیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گائے کے ذبیحہ مخالف قوانین، جو 28 ریاستوں میں نافذ ہیں، اکثر مذہبی اقلیتوں بشمول مسلمانوں اور عیسائیوں، دلتوں اور دیگر مقامی برادریوں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں جن کے مذہبی عقائد میں گائے کا گوشت کھانے کی ممانعت نہیں ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت مذہبی اقلیتوں کو مسلسل تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پولیس سمیت حکام ہندو قوم پرست گروہوں کی مدد کرتے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: