مقبوضہ جموں وکشمیر: بھارتی فوجیوں نے رواں برس اب تک 10 کشمیری شہید کیے،933گرفتار
گزشتہ ماہ مارچ میں 2کشمیری جعلی مقابلے میں شہید کیے گئے
سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران رواں سال اب تک 10 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان میں سے آٹھ کشمیریوں کو جعلی مقابلوں یا دوران حراست شہید کیا گیا۔
بھارتی فوجیوں، پیرا ملٹری اور بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی “ کے اہلکاروں نے اس عرصے کے دوران حریت رہنماوں، کارکنوں، نوجوانوں، طلباءاور خواتین سمیت 933 کو گرفتار کیا۔ بھارتی فورسز اہلکاروں کی طرف سے پرامن مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم از کم 32 افراد زخمی ہوگئے۔ اس دوران فوجیوں نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ایک مکان کو بھی مسمار کیا۔
نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ماتحت انتظامیہ نے گزشتہ تین ماہ میں 43 کشمیریوں کے گھر، زمینیں اور دیگر املاک ضبط کیں۔اس عرصے کے دوران بھارتی انتظامیہ نے 9کشمیری مسلمان ملازمین کو برطرف کیا۔
دریں اثنا بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ مارچ میں 2 کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کیلئے ریاستی دہشت دہشت گردی کا سلسلہ پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ مودی حکومت نے بیگناہ کشمیریوں کا قتل ، گرفتاری ، اغوا ، تشدد روز کا معمول بنا لیا ہے اور وہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے








