آسیہ اندرابی اورانکی ساتھیوں کی طویل سزائیں فوری کالعدم قراردی جائیں ، فاروق رحمانی
اسلام آباد:
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیرشاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے بھارتی عدالت کی طرف سے کشمیری خاتون رہنما آسیہ اندرابی اورانکی ساتھیوں کو سنائی گئی طویل سزائوں کو غیر منصفانہ ، غیر انسانی اور سیاسی انتقام کی کارروائی قراردیتے ہوئے فوری طور پر کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فاروق رحمانی نے ایک بیان میں کشمیری خواتین رہنمائوں آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہاکہ عمر قید اور طویل مدتی قید کی سزائوں سے ہندوتوا نظریے سے متاثر نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے، جس میں انسانی، قانونی اور اخلاقی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔فاروقرحمانی نے واضح کیاکہ کشمیری خواتین رہنماء کسی مجرمانہ یا پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھیں، اس کے باوجود انہیں سخت سزائیں سنائی گئیں۔ انہوں نے بھارتی عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی مجرمانہ ریکارڈ کے افراد کو عوامی امن کے لیے خطرہ قرار دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دبائو سے بالاتر ہو کر غیر جانبدارانہ انصاف فراہم کریں، تاہم اس کیس میں بھارتی عدلیہ مکمل طورپر مودی حکومت کے موقف سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔فاروق رحمانی نے قید خواتین رہنمائوں کی گرتی ہوئی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں چلنے پھرنے سے قاصر ہیں اور وہیل چیئر استعمال کر رہی ہیں جبکہ طویل قید نے دیگر کشمیری نظربندوں کی صحت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔







