مقبوضہ کشمیر میں ہرطرف خوف ودہشت کا ماحول ، جعلی مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے ، میر واعظ
زور زبردستی کی پالیسی سے کبھی امن قائم نہیں ہوگا، نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی فورسز کی طرف سے بیگناہ نوجوانوں کے جعلی مقابلوں میں مسلسل قتل اور کالے قوانین کے تحت گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وحشیانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے اور مجرموں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے آج سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ضلع گاندر بل میں رشید احمد مغل نامی ایک نوجوان کو فرضی جھڑپ میں مارنے کی تکلیف دہ خبر آئی جبکہ بھارتی ایجنسیوں” این آئی اے، ایس آئی اے ، سی آئی کے” وغیرہ کی طرف سے بھی کشمیریوں کی جھوٹے مقدمات میں گرفتاری اورعدالتوں میں فرد جرم عائد کرنے کی خبریں روز کا معمول ہے ۔ میر واعظ نے کہا کہ علاقے میں ہرطرف خوف و دہشت کا ماحول پیداکیا گیا ہے اور ہر کسی کو خطرناک اور مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زور زبردستی کی اس پالیسی سے نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ترقی کا راستہ کھل سکتا ہے۔
میر واعظ نے نما ز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آئے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہاکہ بہت دنوں کے بعد جامع مسجد میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ کشمیر کے مسلمانوں کی اس مرکزی عبادت گاہ تک رسائی حکام کی مرضی سے بار بار روک دی جاتی ہے، یہاں عید کی نماز بھی نہیں ادا کرنے دی گئی۔ شب قدر اور جمع الوداع کے موقوں پر بھی مسجد قفل کی گئی۔ میر واعظ نے کہا کہ یہ سب محض ایک مسجد کو بار باربند کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ لوگوں کے مذہبی حقوق کی سنگین پامالی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بدقسمتی سے کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جیسا کہ مقتول رشید احمد کے اہل خانہ نے کہا کہ وہ ایک پارٹ ٹائم کمپیوٹر آپریٹر تھا جس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اسے بھی اٹھا کر بہیمانہ طریقے سے مار دیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ نوجوان کے غمزدہ اہل خانہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے انصاف کے خواہاں ہیں اورہم صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ انصاف ہو گا کیونکہ یہ ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ اس طرح کے واقعات کے مجرموں کو کبھی سزا نہیں ملی ہے۔





