بھارت

بہار: پولیس نے عالم دین مولانا عبداللہ کو گرفتار کرلیا ، مجلس اتحاد المسلمین ، جماعت اسلامی کی مذمت

پٹنہ: بھارتی ریاست بہار میں پولیس نے ممتاز عالم دین مولانا عبداللہ سلیم چترویدی کو گرفتار کر لیا ہے ۔ انکی گرفتاری کی مسلم تنظیموں کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مولانا عبداللہ کو ریاست اتر پردیش کی پولیس نے دو برس پرانی ایک تقریر کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے ۔ یہ تقریر انہوںنے اتر پردیش میں کی تھی ۔ انہیں 31مارچ کو بہار کے ضلع پورنیہ کے علاقے دلمل پور سے گرفتارکیاگیا۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) بہار کے صدر اور ایم ایل اے اختر الایمان نے گرفتاری کے انداز پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ ، بہار ریاستی اقلیتی کمیشن اور ریاستی انسانی حقوق کمیشن کو لکھے گئے خطوط میں کہا کہ اتر پردیش پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف )نے بہار پولیس کو بتائے یا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کیے بغیر مولانا کو گرفتار کیا جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا جس طرح سے ایک عالم دین کو پکڑا گیا اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جیسے وہ کوئی دہشت گرد یا بغاوت میں ملوث ہے ۔ اختر الایمان نے کہا کہ مولانا کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے دوسری ریاست میں منتقل کیا گیا جو معاملے کی قانونی حیثیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کسی ہندو کو گرفتار کرنے میں کبھی اس طرح کی جلد بازی نہیں دکھائی جتنی اس نے مولانا کے معاملے میں دکھائی ہے۔
دریں اثنا، جماعت اسلامی ہند نے بھی اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایک بیان میں، تنظیم نے کہا کہ ہر فرد مناسب طرز عمل اور تشدد، ایذا رسانی اور بدسلوکی سے تحفظ کا حقدار ہے۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویروں کا حوالہ دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا کو دوران حراست جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
مسلم رہنماو¿ں نے کہا کہ مولانا چترویدی بین المذاہب ہم آہنگی کی وکالت کے لیے جانے جاتے ہیں ا،نہیں اسلام کے ساتھ ساتھ ویدک تعلیمات پر بھی عبور حاصل ہے لہذا نکی گرفتاری انتہائی افسوسناک ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button