بھارت

گجرات اسمبلی کا پاس کردہ ”یو سی سی “بل مسلمانوں پر سماجی وثقافتی اقدار مسلط کرنے کی کوشش ہے، مسلم پرسنل لابورڈ

نئی دلی:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ( اے آئی ایم پی ایل بی) نے ریاست گجرات کی اسمبلی میں منظور کیے جانے والے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسے گجرات ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بورڈ نے کہا کہ یہ بل اقلیتی برادریوں خصوصا مسلمانوں پر اہم سماجی اور ثقافتی اقدار مسلط کرنے کی کوشش ہے جو ناقابل قبول ہے۔ بورڈ کے سینئر نمائندوں نے نئی دلی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ گجرات یو سی سی بل جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے ، نے ملک بھر کے شہریوں میں سنگین دستوری، قانونی اور جمہوری خدشات پیداکر دیے ہیں ، بل درحقیقت آئین کے بنیادی ڈھانچے سے ہم آہنگ نہیں اور آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق بشمول آزادی ، مساوات اور شخصی آزادی کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ بورڈ کے ترجمان ایس کیو آر الیاس نے کہا کہ اس قانون کو حقیقی یونیفارم سول کوڈ قرار نہیں دیا جاسکتا ، اسکی اصطلاح ہی گمراہ کن اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بل سراسر سیاسی محرکات پر مبنی ہے لہذا اسے گجرات ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
گجرات اسمبلی نے گزشتہ ہفتے یو سی سی بل منظور کیا جس کا مقصد مذہب سے بالاتر ہو کر شادی ، طلاق ، وراثت اور دیگر خاندانی معاملات کیلئے یکسان قانونی فریم ورک نافذ کرنا ہے ۔ بل کے مطابق اگر شادی زبردستی ، دباﺅ یا دھوکے سے کی گئی ہو تو اسے باطل قرار دیا جاسکتا ہے۔ بل میں بیک وقت ایک سے زائد شادیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ قبل ازیں ریاست اتراکھنڈ میں نافذ کیے گئے یو سی سی قانون کی بھی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ”آئینی طور پر ناقص ، قانونی طورپر ناقابل عمل اور مذہبی آزادی و شہری حقوق کی بنیادی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔“

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button