مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر : اگست 2019 کے بعد سے بھارتی فورسز نے ایک ہزار سے زائدکشمیریوں کو شہید کیا

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 5اگست 2019کے بعد سے ایک ہزار59سے زائدکشمیریوں کو شہید کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی قابض فورسز کے اہلکاروں نے 5اگست 2019سے اب تک بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں وکشمیر میں22خواتین سمیت ایک ہزار 59 سے زائدکشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے 5اگست 2019کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرکے اسے فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا تھا۔ بھارتی حکومت نے تمام اختلافی آوازوں کو جبری خاموش اور مظلوم کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب اور قدرتی وسائل چھین لئے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر کشمیریوں کو جعلی مقابلوں یا پھر حراست کے دوران شہید کیاگیا کیونکہ بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوںکو گھروں سے اغوا کرنے کے بعد انہیں مجاہدین یا مجاہد تنظیموں کا کارکن قراردیکر جعلی مقابلوں میں شہید کر دیتے ہیں ۔مقبوضہ علاقے میں پرامن مظاہرین اور سوگواروں پر بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے پیلٹ گنز اور آنسو گیس سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم سے کم 2ہزار690افراد شدید زخمی ہوچکے ہیں۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کی شہادتوں سے 83خواتین بیوہ اور 232بچے یتیم ہوئے۔ سینکڑوں کشمیری سرکاری ملازمین، جن میں بیشتر مسلمان شامل ہیں کو جھوٹے الزامات اور سیاسی انصاف کے مطالبے کی حمایت کرنے پر ان کی ملازمتوں سے برطرف یا معطل کر دیاہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگست 2019کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں بی جے پی حکومت نے مکانات، زمینیں، دفاتر اور اسکول وںسمیت سینکڑوں جائیدادوں پر قبضہ کر لیا ہے۔رپورٹ میں واضح کیاگیاکہ پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور 5اگست 2019سے پہلے اور بعد میں 3000 سے زائد حریت رہنمائوں، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں، مذہبی شخصیات، صحافیوں اور تاجروں کوکالے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیاہے۔ ان میں سے بیشتر بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں نظر بند ہیں۔حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد السلام ، مولوی بشیر احمد عرفانی، بلال صدیقی، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر محمد قاسم فکتوو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، ڈاکٹر حمید فیاض، نور محمد فیاض، سید شاہد یوسف، محمد رفیق گنائی، ظفر اکبر بٹ، حیات احمد بٹ، شوکت حکیم، معراج الدین نندا، مولوی سجاد، ایڈووکیٹ زاہد علی، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز ، صحافی عرفان مجید اور دیگرحریت رہنماء اور کارکن مسلسل غیر قانونی طورپر نظربند ہیں ،جنہیں بی جے پی حکومت مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button